الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اللہ تعالی کی عبادت اور بندگی کی خاطر مسجد میں ٹھہرنے کو اعتکاف کہتے ہیں۔
بغیر ضرورت کے مسجد سے نکلنے پر اعتکاف باطل ہو جاتا ہے، ضرورت کی غرض سے مسجد سے باہر جانا جائز ہے، مثلا: قضائے حاجت کے لیے، وضو کے لیے، اگرکوئی کھانا لانے والا نہ ہوتو کھانے لانے کے لیے بھی نکلنا جائز ہے۔
سيده عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا، کہا:
كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا اعْتَكَفَ، يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ فَأُرَجِّلُهُ، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ(صحیح مسلم، الحيض: 297)
جب رسول اللہ ﷺ اعتکاف کرتے تو اپنا سر( گھر کے دروازے سے) میرے قریب کر دیتے، میں اس میں کنگھی کر دیتی اور آپﷺ انسانی ضرورت کے بغیر گھر میں تشریف نہ لاتے تھے۔
1. اگر انسان بغیر کسی ضرورت کے مسجد سے باہر نکلےگا تو اس کا اعتکاف باطل ہو جائے گا۔
والله أعلم بالصواب.