سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
میت کے ورثاء میں ایک بیوہ، تین بیٹیاں، والدہ، والد، دوپوتے اورایک پوتی ہیں، وراثت کیسے تقسیم ہو گی؟
  • 5958
  • تاریخ اشاعت : 2025-04-12
  • مشاہدات : 118

سوال

چند ماہ قبل میرے چچا کا انتقال ہوا۔ چچا مرحوم نے ایک بیوہ، تین بیٹیاں، والدہ، والد، دو پوتے اورایک پوتی وارث چھوڑے ہیں اورترکہ ایک کروڑ بیس لاکھ نقدی چھوڑا۔ مرحوم کا ترکہ ان ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سوال میں مذکور صورت حال کے مطابق میت کے ورثاء میں ایک بیوہ، تین بیٹیاں، والدہ، والد، دوپوتے اورایک پوتی ہیں ۔  میت کی کل جائیداد ایک کروڑ بیس لاکھ روپے ہے۔ جائیداد کی تقسیم شرعی اصولوں کے مطابق درج ذیل طریقہ سے کی جائے گی:

نمبر شمار میت کا ورثاء جائیداد کی تقسیم سارے مال کے 81 حصے کر لیے جائیں ایک کروڑ بیس لاکھ کی تقسیم

1. بیوی آٹھواں حصہ نو حصے 1333333.3

2. تین  بیٹیاں دو تہائی اڑتالیس حصے، ہر بیٹی کے لیےسولہ 7111111.1 ہر بیٹی کو 2370370.4

3. باپ چھٹا حصہ باره حصے 1777777.8

4. ماں چھٹا حصہ باره حصے 1777777.8

5. دو پوتے باقی ماندہ مال ان کے لیے  کچھ نہیں بچا -

6. ایک پوتی -

 

بیوی کے آٹھویں حصے کی دلیل:

ارشادباری تعالی ہے:

فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ (النساء: 12)

پھر اگر تمھاری کوئی اولاد ہو تو ا ن کے لیے اس میں سے آٹھواں حصہ ہے جو تم نے چھوڑا۔

تين بیٹیوں کے دو تہائی حصے کی دلیل:

ارشاد باری تعالی ہے:

فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ (النساء: 11)

پھر اگر وہ دو سے زیادہ عورتیں(ہی) ہوں، تو ان کے لیے اس کا دوتہائی ہے جو اس نے چھوڑا۔

 

ماں باپ کے چھٹے حصے کی دلیل:

وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ

 

پوتے اور پوتی کے باقی ماندہ حصہ لینے کی دلیل:

سیدنا ابن عباس رضی  الله عنهما بيان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

أَلْحِقُوا الفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَر (صحيح البخاري، الفرائض: 6732).

تم جن ورثا کا حصہ متعین ہے انہیں ان کا حصہ پورا پورا ادا کر دو، پھر جو مال بچ جائے اسے میت کے قریبی ترین مرد رشتےدار کو دے دو۔

 

دوپوتے اور پوتی عصبہ ہیں، یہ اصحاب الفروض  میں مال کی تقسیم کے بعد باقی ماندہ مال کے وارث ہوتے ہیں۔ مذکورہ مسئلہ میں چونکہ اصحاب الفروض سے مال نہیں بچا، تو انہیں کچھ نہیں ملے گا۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے