الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
جن لفظوں کے ساتھ بیوی کو طلاق دی جاسکتی ہے وہ دو طرح کے ہیں:
1. صریح لفظ: جو طلاق کے معنی میں بالکل واضح ہو، جس کا طلاق کے علاوہ کوئی اور مطلب نہیں ہو سکتا۔
2. کنایہ: اس سے مراد ایسا لفظ ہے جو طلاق دینے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور طلاق کے علاوہ کسی اور معنی کو ادا کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
آپ نے اپنی بیوی کو مختلف اوقات میں تین جملے کہے ہیں:
1. ’’تجھ کو رکھوں تو اپنی ماں کو رکھوں‘‘
2. ’’اپنے دیور کے پاس ہی چلی جاؤ‘‘
3. ’’آج کے بعد میرا تمہارا رشتہ ختم‘‘
1. آپ نے سوال میں ذکر کیا ہے کہ آپ کو علم نہیں تھا کہ ’’تجھ کو رکھوں تو اپنی ماں کو رکھوں‘‘ کہنے سے طلا ق واقع ہو جاتی ہے تو طلاق واقع نہیں ہوئی۔ البتہ اگر آپ کا مقصد ’’تجھ کو رکھوں تو اپنی ماں کو رکھوں‘‘ سے یہ تھا کہ جیسے ماں سے مباشرت حرام ہے ایسے ہی میں تجھ سے بھی مباشرت کو حرام سمجھتا ہوں، تو یہ ظہار ہے اور آپ کو ظہار کا کفارہ ادا کرنا ہو گا۔
اللہ تعالی نے ظہار کا کفارہقرآن مجید میں بیان کیا ہے، ارشاد باری تعالی ہے:
وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا ذَلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (3) فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ذَلِكَ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ (المجادلة: 3- 4)
اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں، پھر اس سے رجوع کرلیتے ہیں جو انھوں نے کہا ،تو ایک گردن آزاد کرنا ہے، اس سے پہلے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، یہ ہے وہ (کفارہ) جس کے ساتھ تم نصیحت کیے جاؤ گے،اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، پور ی طرح باخبر ہے۔پھر جو شخص نہ پائے تو دو پے درپے مہینوں کا روزہ رکھنا ہے، اس سے پہلے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، پھر جو اس کی (بھی) طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔یہ اس لیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور یہ اللہ کی حدیں ہیں اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے ۔
سیدہ خولہ بنت مالک بن ثعلبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے شوہر اوس بن صامت رضی اللہ عنہ نے مجھ سے ظہار کر لیا تو میں شکایت لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ مجھ سے اس مسئلے میں بحث فرمانے لگے۔ آپ کہتے تھے: ”اللہ سے ڈرو، وہ تمہارا چچا زاد ہے۔“ میں وہاں سے نہ ہٹی تھی کہ قرآن نازل ہو گیا )) قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا(( بیان کفارہ تک۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ” وہ گردن آزاد کرے۔“ اس نے کہا: اس کے پاس نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: ”وہ دو مہینے متواتر روزے رکھے۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ بہت بوڑھا ہے، روزے کہاں رکھ سکتا ہے؟ فرمایا: ”تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔“ اس نے کہا: اس کے پاس کچھ نہیں ہے کہ صدقہ کرے۔ بیان کرتی ہیں کہ اسی وقت آپ کے پاس ایک ٹوکرا کھجور کا آ گیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایک اور ٹوکرے (کھجور) سے اس کی مدد کر سکتی ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”بہت بہتر ہے۔ جاؤ اور اس کی طرف سے یہ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو اور اپنے چچا زاد کی طرف لوٹ جاؤ۔“ (سنن أبي داود، الطلاق: 2214) (صحيح)
1. ’’اپنے دیور کے پاس ہی چلی جاؤ‘‘ ’’آج کے بعد میرا تمہارا رشتہ ختم‘‘ یہ دونوں جملےکنایہ ہیں۔ اگر ان الفاظ کو بولتے وقت آپ کی نیت طلاق دینے کی تھی تو ایک طلاق واقع ہوگئی ہے اور اگر نیت طلاق دینے کی نہیں تھی تو طلاق واقع نہیں ہوئی۔
والله أعلم بالصواب.