سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
وتر پڑھنے کے بعد نوافل ادا کرنا
  • 5935
  • تاریخ اشاعت : 2026-10-14
  • مشاہدات : 13

سوال

كيا نماز وتر جماعت کے ساتھ پڑھنے کے بعد تہجد کی نماز پڑھ سکتے ہیں؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر انسان امام کے ساتھ وتر پڑھنے کے بعد  رات کے آخری پہر میں اٹھ کر نفل نماز پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے، لیکن وتر دوبارہ نہیں پڑھے گا، کیونکہ ایک رات میں دو وتر پڑھنا جائز نہیں ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں: آپ نو رکعتیں پڑھتے، ان میں آپﷺ آٹھویں کے علاوہ کسی رکعت میں نہ بیٹھتے، پھر اللہ کا ذکر کرتے، اس کی حمد بیان کرتے اور دعا فرماتے، پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہو جاتے، پھر کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے، پھر بیٹھتے اللہ کا ذکر اور حمد کرتے اور اس سے دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جو ہمیں سناتے پھر سلام کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے۔  (صحيح مسلم: كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا: 746)

مذکورہ بالا حدیث میں ذکر ہے کہ رسول اللہ وتر پڑھنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے تھے، اس سے وتر کے بعد نوافل کی ادائیگی کا جواز معلوم ہوتا ہے۔

طلق بن علی  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

 لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ (سنن ابی داود، كِتَابُ تَفريع أَبوَاب الوِترِ: 1439،  سنن الترمذي: أَبْوَابُ الوِتْرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: 470) (صحیح)

ایک رات میں دو بار وتر نہیں (پڑھے جائیں گے)۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے