سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
غسل جنابت كا طریقہ
  • 5933
  • تاریخ اشاعت : 2025-11-25
  • مشاہدات : 125

سوال

غسل جنابت سے پہلے جن اعضا کو وضو میں دھویا جاتا ہے (جیسے کہ ہاتھ بازو وغیرہ) کیا ان اعضا کو دوبارہ پانی بہاتے وقت دھونا چاہیے یا نہیں؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

غسل كا مكمل اور مسنون طريقہ:

غسل کا مکمل اور مسنون طریقہ یہ ہے کہ انسان  سب سے پہلے غسل کرنے کی نیت سے اپنے دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ دھوئے۔ پھر شرمگاہ دھوئے اور جہاں جہاں نجاست لگى ہے اس جگہ كو بھی اچھی طرح دھوئے۔ پھر ہاتھوں کو صابن یا مٹی وغیرہ سے دھونے کے بعد نماز کی طرح  مكمل وضو كرے۔ پھر پانى كے ساتھ تين مرتبہ اپنے سر کا دایاں حصہ دھوئے اور خلال كرے حتى کہ پانی اچھی طرح بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر بائیں حصے کواسی طرح دھوئے اور خلال کرے حتى کہ پانی اچھی طرح بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے ۔ پھر اپنے جسم کی دائیں طرف  پانی بہائے اور پھر بائیں طرف ۔   

بدن کے ہرحصے تک پانی پہنچانا ضروری ہے۔ بالوں کی جڑوں، بدن کی نظر نہ آنے والی جگہوں، حلق کے نیچے، ناف کے اندر، بغلوں کے نیچے اور گھٹنوں کے نیچے والے حصوں میں توجہ اور اہتمام سے پانی بہائے۔ گھڑی یا انگوٹھی پہنی ہو تو اسے حرکت دے تاکہ پانی ان کے نیچے تک پہنچ جائے۔اس طرح مکمل طور پر اہتمام سے غسل  جنابت کرے کہ اس کے بدن میں ایسی جگہ نہ رہ جائے جہاں پانی نہ پہنچ سکا ہو۔

دلیل:

سيده عائشہ  رضی اللہ عنہا  بيان كرتی ہیں کہ نبی ﷺ جب غسل جنابت فرماتے تو پہلے دونوں ہاتھ دھوتے۔ پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے۔ بعد ازاں اپنی انگلیاں پانی میں ڈال کر بالوں کی جڑوں کا خلال کرتے۔ پھر دونوں ہاتھوں سے تین چلو لے کر اپنے سر پر ڈالتے۔ اس کے بعد اپنے تمام جسم پر پانی بہاتے۔ (صحيح البخاری، الغسل: 248)

سيدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بيان كرتے ہیں کہ  مجھے میری خالہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا نے بتایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے غسل جنابت کے لیےآپ کے قریب پانی رکھا، آپﷺ نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دو یا تین دفعہ دھویا، پھر اپنا (دایاں) ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اس کے ذریعے سے اپنی شرم گاہ پر پانی ڈالا اور اسے اپنے بائیں ہاتھ سے دھویا، پھر اپنے بائیں ہاتھ کو زمین پر مار کر اچھی طرح رگڑ اور اپنا نماز جیسا وضو فرمایا، پھر ہتھیلی بھر کر تین لپ پانی اپنے سر پر ڈالا، پھر اپنے سارے جسم کو دھویا، پھر اپنی اس جگہ سے دور ہٹ گئے اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے، پھر میں تولیہ آپﷺ کے پاس لائی تو آپﷺ نے اسے واپس کر دیا۔ (صحيح مسلم، الحيض: 317)

 

مندرجہ بالا احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ غسل جنابت کرتے ہوئے وضو کرنے کے بعد سارے جسم پر پانی بہانا چاہیے۔

والله أعلم بالصواب.

تبصرے