الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر انسان ضرورت مند ہو تو وہ نماز تروایح پڑھانے کی اجرت لے سکتا ہے، کیونکہ اہل خانہ کی ضروریات کو پورا کرنا واجب ہے۔ وہ اپنی ضرورت طے شدہ معاوضے سے پوری کر لے گا اور عبادت رضائے الہی کے لیے کرے گا۔
ایسے ہی اگر وہ معاوضہ طے کیے بغیر نماز تراوایح پڑھائے اور رمضان کے اختتام پر لوگ خود بخود اس سے تعاون کر دیں تو اس مال کو لینا جائز ہے۔
والله أعلم بالصواب.