سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
قبرستان میں پرندوں کو دانہ ڈالنا
  • 5929
  • تاریخ اشاعت : 2025-08-22
  • مشاہدات : 518

سوال

قبرستان میں پرندوں کو دانہ پانی ڈالنا کیسا ہے؟ کیا یہ بدعت ہے؟ اور اگر نہیں، تو کیا اس سے ہمارے پیاروں کو ثواب ملتا ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جیسے انسانوں کے ساتھ بھلائی کرنے کا اجر و ثواب ملتا ہے ایسے ہی جانوروں کے ساتھ بھلائی کرنے میں بھی اجر ہے ۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 بَيْنَا رَجُلٌ يَمْشِي فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ فَنَزَلَ بِئْرًا فَشَرِبَ مِنْهَا ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا هُوَ بِكَلْبٍ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنْ الْعَطَشِ فَقَالَ لَقَدْ بَلَغَ هَذَا مِثْلُ الَّذِي بَلَغَ بِي فَمَلَأَ خُفَّهُ ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ ثُمَّ رَقِيَ فَسَقَى الْكَلْبَ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ أَجْرًا قَالَ فِي كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ (صحیح البخاری، المساقاۃ: 2363، صحیح مسلم، السلام: 2244)

ایک شخص جارہا تھا، اس کو سخت پیاس لگی تو وہ ایک کنویں میں اترا اور اس سے پانی پیا۔ جب وہ باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی وجہ سے ہانپتے ہوئے گیلی مٹی چاٹ رہا ہے۔ اس شخص نے (دل میں) کہا کہ اسے بھی شدت پیاس سے وہی اذیت ہے جو مجھے تھی۔ اس نے اپنا موزہ پانی سے بھرا اور اسے منہ میں لے کر ا وپر چڑھا اور کتے کو پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی قدردانی کرتے ہوئے اس کو معاف کردیا۔‘‘ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے پوچھا: اللہ کے رسول ﷺ ! کیا ہمیں چوپایوں کی خدمت کرنے میں بھی اجر ملے گا؟ آپ نے فرمایا: ’’ہر وہ جگر جو زندہ ہے اس کی خدمت میں اجر ہے۔

سيدنا  انس رضی اللہ  عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا، أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا، فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ، أَوْ إِنْسَانٌ، أَوْ بَهِيمَةٌ، إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ (صحيح البخاري، المساقاة: 2320، صحيح مسلم، المساقاة والمزارعة: 1553)

کوئی مسلمان نہیں جو درخت لگائے یا کاشت کاری کرے، پھر اس سے کوئی پرندہ، انسان یا چوپایہ کھائے مگر اس کے بدلے میں اس کے لیے صدقہ ہو گا۔

اگر انسان میت کی طرف سے صدقہ کرے تو میت کو اس کا ثواب پہنچتا ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ  ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اورعرض کیا:

إِنَّ أُمِّيَ افْتُلِتَتْ نَفْسَهَا وَلَمْ تُوصِ وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ أَفَلَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ (صحیح مسلم، الزکاۃ: 1004)

اے اللہ کے رسول ﷺ! میری والدہ اچانک وفات پا گئی ہیں اور انھوں نے کوئی وصیت نہیں کی، میرا ان کے بارے میں گمان ہے کہ اگر بولتیں تو وہ ضرور صدقہ کرتیں، اگر (اب) میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا انھیں اجر ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ہاں۔

 

1. اگر انسان اپنے پیاروں کی طرف سے صدقہ کرتے ہوئے  پرندوں کو خوراک یا پانی ڈالتا ہے تو  میت کو اس کا اجر و ثواب ملے گا۔ وہ پرندے  چاہے قبرستان میں ہوں یا کسی اور جگہ، لیکن یہ یادر رہے کہ اگر وہ قبرستان کے پرندوں کو خوراک یا پانی مخصوص نیت سے اورمخصوص طریقے سے ڈالتا ہے تو یہ عمل درست نہیں ہے۔

2. اگر وہ کسی خاص قبرستان کے پرندوں کو خوراک یا پانی کسی بزرگ  یا پیر وغیرہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے، یا کسی خاص نظریہ یا عقیدہ کے سبب  ڈالتا ہے تو یہ شرک ہے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے