الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
بعض علماء کرام کی رائے ہے کہ جنبی آدمی قرآن مجید کی تلاوت کر سکتا ہے، لیکن درج ذیل دلائل کی بنا پر درست بات یہی ہے کہ جنبی آدمی کے لیے قرآن مجید کی تلاوت کرنا جائز نہیں ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وَلَمْ يَكُنْ يَحْجُبُهُ- أَوْ قَالَ: يَحْجِزُهُ- عَنِ الْقُرْآنِ شَيْءٌ, لَيْسَ الْجَنَابَةَ (سنن أبي دادود، الطهارة: 229، سنن النسائي، ذِكْرِ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لَا يُوجِبُهُ : 265)
نبی کریم ﷺ کے لیے کوئی چیز قرآن پڑھنے سے مانع نہ ہوتی تھی الا یہ کہ جنابت سے ہوں۔
عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
كان عمرُ بن الخطَّاب يَكره أن يَقرأ القرآنَ وهو جُنُب (مصنف ابن أبي شيبة: 1307)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حالت جنابت میں قرآن مجید کی تلاوت کرنا ناجائز سمجھتے تھے۔
ابو الغریف ہمدانی سیدناعلی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:
اقرَؤوا القرآنَ ما لم يُصِبْ أحدَكم جنابةٌ, فإن أصابَتْه جنابةٌ فلا، ولا حرفًا واحدًا (مصنف ابن أبي شيبة: 1306)
اگر تم جنبی نہیں ہو تو قرآن مجید کی تلاوت کر سکتے ہو، اگر جنبی ہو جاؤ تو ایک حرف بھی تلاوت نہ کرو۔
صحابہ کرام میں سے سیدنا عبد اللہ بن مسعود، سیدنا عبد اللہ بن عمر ،سلمان فارسی رضی اللہ عنہم جمیعا سے بھی منقول ہے کہ وہ جنابت کی حالت میں قرآن کی تلاوت سے منع کرتے تھے۔
امام ماوردی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
تَحْرِيمَ الْقِرَاءَةِ عَلَى الْجُنُبِ قَدْ كَانَ مَشْهُورًا فِي الصَّحَابَةِ مُنْتَشِرًا عِنْدَ الْكَافَّةِ حَتَّى لَا يَخْفَى عَلَى رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ (الحاوي الكبير: ج1، ص148)
جنبی شخص کے لیے قرآن مجید کی تلاوت کا حرام ہونا تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا ہاں مشہور تھا، تمام مرد و خواتین اس بات سے آگاہ تھے۔
1. مذکورہ بالادلائل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جنبی شخص کے لیے قرآن مجید کی تلاوت کرنا جائز نہیں ہے۔ وہ جنابت کا غسل کر کے قرآن مجید کی تلاوت کر سکتا ہے۔
والله أعلم بالصواب.