سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
مالک سے زکاۃ لے کر اپنے مستحق رشتے داروں میں تقسیم کرنا
  • 5922
  • تاریخ اشاعت : 2025-05-31
  • مشاہدات : 499

سوال

کیا میں اپنے مالک سے زکاۃ لے کر اپنے مستحق رشتے داروں میں تقسیم کر سکتا ہوں؟ اس نے مجھے کہا ہے کہ دو غریب گھرانوں میں یہ زکاۃ کا مال تقسیم کر دو، تو کیا میں اپنی مرضی سے کسی کو بھی دے سکتا ہوں؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!  

رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کو زکاۃ کا مال اکٹھا کر نے کے لیے روانہ کیا کرتے تھے جیسا کہ آپ ﷺ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو جب یمن کی طرف روانہ کیا تو فرمایا:

فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ (صحيح البخاري، الزكاة: 1395، صحيح مسلم، الإيمان: 19)

انھیں (اہل یمن کو)  بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کے مال کا صدقہ بھی فرض کیا ہے جو صاحب ثروت لوگوں سے وصول کر کے ان کے محتاجوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

 

1. مذکورہ بالا حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کسی دوسرے شخص کو زکاۃ کے مال کی تقسیم کی ذمے داری سونپ سکتا ہے۔ اس لیے اگر آپ کے مالک نے زکاۃ کا مال آپ کے حوالے کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ کسی بھی غریب گھرانے میں تقسیم کر دو، تو آپ اپنے مستحق رشتے داروں کو وہ مال دے سکتے ہیں۔ اگر مالک نے کسی کو متعین کیا ہو کہ یہ زکاۃ کا مال آپ نے فلاں آدمی کو دینا ہے، تو پھر اسی شخص کو دینا ضروری ہو گا۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے