سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
میری ضروریات پوری نہیں ہوتیں کیا میں زکوۃ کا مال لے سکتا ہوں؟
  • 5885
  • تاریخ اشاعت : 2026-04-27
  • مشاہدات : 8

سوال

میں دل کا مریض ہوں۔ ایک ٹانگ سے جزوی طور پرمعذور ہوں۔ ایک فیکٹری میں ٹھیکیدار ہوں۔ جو آمدنی مجھے ملتی ہے، اس سے بمشکل گھر کا گزارا ہوتا ہے۔ بعض اوقات آخری دنوں میں قرض لینے کی ضرورت پیش آتی ہے ۔میرے پاس کوئی زمین جائیداد،سونا،چاندی، ذاتی گھر، جمع پونجی، بینک بیلنس کچھ نہیں ہے۔کیا مجھ پر زکوۃ فرض ہے۔ کیا میں زکوۃ،صدقات لینے کا حقدار ہوں؟ مجھ پر مختلف لوگوں کا پانچ لاکھ سے زیادہ قرضہ بھی ہے۔

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں زکاۃ کے مستحق  افراد کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (التوبة: 60)

صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر میں (خرچ کرنے کے لیے ہیں)۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں زکاۃ کے مصارف بیان کیے گئے ہیں، ان میں سے ایک مصرف وَالْغَارِمِينَ بھی ہے۔ اس سے مراد وہ مقروض ہیں جو قرض ادا نہیں کر سکتے، یا وہ کاروباری لوگ یا زمیندار وغیرہ جو کاروبار یا فصل برباد ہوجانے کی وجہ سے زیر بار ہو گئے، اگر وہ اپنی جائداد میں سے قرض ادا کریں تو فقیر ہو جائیں۔

مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں زکاۃ کا پہلا اور دوسرا مصرف فقراء اور مساکین کو قرار دیا گیا ہے۔ فقیر اور مسکین دونوں لفظ محتاج کے معنی میں آتے ہیں۔ فقیر مسکین سے زیادہ بدحال ہوتا ہے، فقیر وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو اور مسکین وہ ہے جس کی آمدنی اس کی ضروریات سے کم ہے۔ لہذا اگر کسی شخص کی آمدنی سے ا س کے گھر کے ضروری اخراجات (کھاناپینا، لباس، رہائش وغیرہ) پورے نہیں ہوتے، اس کی آمدنی اس کی ضروریات سے کم ہے تو اسے زکاۃ  دی جا سکتی ہے۔

ایسے ہی اگر قرض خواہ قرض کی ادائیگی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور آپ کی ماہانہ آمدنی اتنی نہیں ہے کہ اس سے قرض ادا کیا جاسکے، یعنی اگر آپ کئی مہینے بھی گھر کے اخراجات کے علاوہ کچھ پیسے الگ کر کے جمع کرتے رہیں،  تو جمع نہیں ہوں گے، یا بمشکل جمع ہوپائیں گے، تو آپ زکاۃ کے مال سے قرض کی ادائیگی کر سکتے ہیں۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے