الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
سجدہ والی آیت کی تلاوت کرنے یا سننے سے سجدہ کرنا مستحب اور افضل عمل ہے۔
سيدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن منبر پر سورہ نحل تلاوت فرمائی۔ جب آیت سجدہ پر پہنچے تو منبر سے نیچے اترے اور سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی آپ کے ہمراہ سجدہ تلاوت کیا۔ جب آئندہ جمعہ آیا تو آپ نے منبر پر پھر اسی سورت کی تلاوت فرمائی۔ جب آیت سجدہ پر پہنچے تو فرمایا:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا نَمُرُّ بِالسُّجُودِ فَمَنْ سَجَدَ فَقَدْ أَصَابَ وَمَنْ لَمْ يَسْجُدْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَلَمْ يَسْجُدْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ (صحيح البخاري، سجود القرآن: 1077)
لوگو! ہم آیت سجدہ پڑھ رہے ہیں، جس نے اس پر سجدہ کیا اس نے ٹھیک اور درست کام کیا اور جس نے سجدہ نہ کیا اس پر کوئی گناہ نہیں، تاہم حضرت عمر ؓ نے سجدہ نہ کیا۔
• سجدہ تلاوت ایک ہی سجدہ کیا جائے گا، اور اس کی کیفیت بالکل نماز کے سجدے کی طرح ہے۔
• سجدہ تلاوت فوری کیا جائے گا، اگر وقفہ زیادہ ہو جائے تو نہیں کیا جائے گا؛ کیونکہ اس کا محل فوت ہو چکا ہے۔
• اگر انسان نماز میں آیت سجدہ تلاوت کرے، تو بھی سجدہ کرے گا، چاہے فرض نماز ہو یا نفل، اکیلا نماز پڑھ رہا ہو یا جماعت کے ساتھ، سری نماز ہو یا جہری، لیکن امام سری نماز میں سجدہ تلاوت نہیں کرے گا، تاکہ نمازی تشویش میں مبتلا نہ ہو جائیں۔
حضرت ابورافع فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ کے ہمراہ نماز عشاء پڑھی تو انہوں نے سورہ ﴿إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ پڑھی اور اس میں سجدہ کیا۔ جب میں نے ان سے سجدے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت ابوالقاسم ﷺ کے پیچھے سجدہ کیا ہے، لہذا میں ہمیشہ اس میں سجدہ کرتا رہوں گا تا آنکہ (قیامت کے دن) میری آپ سے ملاقات ہو جائے۔ (صحیح بخاری، الأذان: 766)
والله أعلم بالصواب.