الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
مسافر کے لیے روزہ چھوڑنے کی رخصت ہے ۔
ارشاد باری تعالی ہے:
وَمَنْ كَانَ مَرِيضاً أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ (البقرة:185)
’’اور جو بیمار ہو یا کسی سفر پر ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرنا ہے۔‘‘
E جو شخص اپنے گھر ميں ہى ہو اور اس كا سفر کرنے کا پختہ ارادہ ہو، اسے اس وقت تك مسافر نہيں سمجھا جائے گا، جب تك وہ اپنے شہر/ گاؤں كى عمارتوں سے دور نہيں چلا جاتا۔ اس لیے اگر انسان کا دن میں کسی وقت سفر کرنے کا ارادہ ہو، تو وہ روزہ رکھے گا، لیکن جب سفر کے لیے نکلے گا تو روزہ چھوڑنے کی رخصت ہے۔
اگر انسان مسافر ہو اور اس نے کسی جگہ چار دن یا اس سے کم ٹھہرنا ہو تو وہ روزہ چھوڑ سکتا ہے ، لیکن چھوڑے ہوئے روزوں کی رمضان کے بعد قضائی دینا ضروری ہے۔ اگر اسے پہلے دن سے معلوم ہو کہ اس نے چار دن سے زیادہ پڑاؤ کرنا ہے تو روزہ چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے۔
آپ کو پہلے دن سے پتہ تھا کہ آپ نے ماموں کے ساتھ ہسپتال میں چار دن سے زیادہ رہنا ہے، اس لیے آپ پر لازم ہے کہ آپ ہسپتال میں رہتے ہوئے سارے روزے رکھیں۔ آپ کے لیے روزہ چھوڑنا جائز نہیں ہے۔
سفر میں روزہ چھوڑنے کی رخصت ہے، لیکن اگر انسان کو روزہ رکھنے سے کسی قسم کی مشقت نہیں ہوتی تو درج ذیل وجوہات کی بنا پر بہتر یہی ہے کہ وہ روزہ رکھے۔
1. سيدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم کسی سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نکلے۔ گرمی اس قدر سخت تھی کہ اس کی شدت سے آدمی اپنے سر پر ہاتھ رکھ لیتا تھا۔ اس وجہ سے ہم میں سے کوئی شخص بھی روزے سے نہ تھا۔ صرف رسول اللہ ﷺ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ روزے دار تھے۔ (صحيح البخاري، الصوم: 1945، صحيح مسلم، الصيام: 1122)
2. انسان کے لیے دیگر لوگوں کے ساتھ روزہ رکھنا رمضان کے بعد قضائی دینے سے زيادہ آسان ہے ۔
3. رمضان كا مہینہ باقی مہینوں سے افضل ہے، اس لیے رمضان میں ہی روزہ رکھ لینا بہتر ہے، تاکہ روزے بھی سارے رکھ لیے جائیں اور فضیلت والا وقت بھی مل جائے۔