سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
کیا بیمار آدمی گھر میں عید کی نماز پڑھ سکتا ہے؟
  • 5874
  • تاریخ اشاعت : 2026-05-07
  • مشاہدات : 9

سوال

میں عرصہ بیس سال سے دل کے مرض میں مبتلا ہوں۔ علالت کی وجہ نمازیں بستر پر پڑھنے پر مجبور ہوں۔ کیا عیدین کی نماز کیلئے مجھے عیدگاہ جانا واجب ہے؟ براہ کرم قرآن،سنت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 نماز عيد ادا كرنا ہر مسلمان پر ضروری ہے، بالغ انسان كے ليے اسے چھوڑنا قطعا جائزنہيں ہے؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عورتوں كو بھی نماز عید کے لیے حاضر ہونے كا حكم ديا  ہے، بلكہ وه عورتیں جن کے خاص ایام چل رہے ہوں انہیں بھى عيدگاہ جانےكا حكم ديا، ليكن فرمايا: ایسی عورتیں عيد گاہ سے الگ بیٹھیں گى۔

ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :

أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَهُنَّ فِي الْفِطْرِ وَالأَضْحَى الْعَوَاتِقَ وَالْحُيَّضَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الصَّلاةَ وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِحْدَانَا لا يَكُونُ لَهَا جِلْبَابٌ . قَالَ : لِتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا (صحيح البخاري، الحيض: 324، صحيح مسلم، صلاة العيدين: 890(

ہمیں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے  حکم دیا کہ ہم قريب البلوغ، حائضہ اور كنوارى عورتيں سب كو، عيد الفطر اور عيد الاضحى کے موقع پر ( عيد گاہ ) لے کر جائیں، ليكن حائضہ عورتيں نماز سے عليحدہ رہيں، وہ خير اور مسلمانوں كے ساتھ دعا ميں شريك ہوں، ميں نے عرض كيا: اے اللہ كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم!  اگر ہم ميں سے كسى كے پاس اوڑھنى نہ ہو تو (وه كيا كرے) ؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  اسے اس كى بہن اپنى اوڑھنى دے دے۔

اس لیے  انسان کو  ہر صورت نماز عید کےلیے حاضر ہونا چاہیے، لیکن اگر بیماری یا کسی معقول عذر کی بنا پر وہ باجماعت عید کی نماز نہیں  پڑھ سکا، تو اسے چاہیے کہ گھر میں ہی اس کی قضائی دے۔ اس کا طریقہ معروف عید نماز والا ہی ہو گا،  کہ دو رکعت ادا کرے گا، پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ اضافی تکبیرات کہے گا۔ آپ بیمار ہیں، اس لیے آپ کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ اللہ تعالی آپ کو مکمل شفا عطا فرمائے ۔

اور امام بخاری  رحمہ اللہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالےسے بیان کیا ہے کہ انہوں نے اپنے غلام ابن ابی عتبہ کو حکم دیا، اپنے اہل و عیال کو بھی جمع کیا، پھر سب کو  ویسے ہی نماز عید پڑھائی جیسےامام لوگوں کو نماز عید پڑھاتا ہے، اور تکبیرات بھی کہیں۔ ( صحيح البخاري: بَابٌ: إِذَا فَاتَهُ العِيدُ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَذَلِكَ النِّسَاءُ، وَمَنْ كَانَ فِي البُيُوتِ وَالقُرَى (2/23)، تغليق التعليق: 2/386).

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے