الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
عورت کے لیے زیب وزینت اختیار کرنے کی ممانعت نہیں ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
أَوَمَنْ يُنَشَّأُ فِي الْحِلْيَةِ وَهُوَ فِي الْخِصَامِ غَيْرُ مُبِينٍ (الزخرف:18)
اور كيا (اس نے اسے رحمان کی اولاد قرار دیا ہے) جس کی پرورش زیور میں کی جاتی ہےاور وہ جھگڑے میں بات واضح کرنے والی نہیں؟۔
البتہ اجنبی مردوں کے سامنے زینت کو چھپانے کا حکم دیا گیا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا (النور: 31)
اور مومن عورتوں سے کہہ دے اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو اس میں سے ظاہر ہو جائے۔
1. مہندی بھی باعث زینت ہے، عورت اپنے ہاتھوں کے ظاہری حصے پر مہندی لگا سکتی ہے، لیکن اجنبی مردوں کے سامنے ہاتھوں کو چھپانا ضروری ہے۔
والله أعلم بالصواب