الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
قرآن و حدیث میں میت کے ورثاء کو تین طرح سے تقسیم کیا گیا ہے:
اصحاب الفروض: اس سے مراد میت کے وہ قریبی رشتے دار ہیں جن کا حصہ قرآن یا حدیث میں مقرر كر ديا گیا ہے۔ جیسے: ماں، بیٹی، پوتی،خاوند، بیوی وغیرہ۔
عصبہ: میت کی مذکر اولاد (بیٹے) اور باپ کی طرف سےمرد رشتے داروں کو عصبہ کہتے ہیں، ان کا حصہ قرآن و حدیث میں مقرر نہیں کیا گیا بلکہ یہ اصحاب الفروض میں مال کی تقسیم کے بعد باقی ماندہ مال کے وارث ہوتے ہیں۔ جیسے: بیٹا، پوتا ، باپ، دادا، سگا بھائی، باپ شریک بھائی وغیرہ عصبہ کہلاتے ہیں۔
اولو الارحام: اولو الارحام سے مراد میت کے وہ رشتے دار ہیں جو نہ اصحاب الفروض میں سے ہوں اورنہ ہی عصبہ میں سے ہوں۔ جیسے: نواسے، نواسیاں، ماموں ، خالہ وغیرہ اولو الارحام میں ہیں۔
قرآن و حديث کے احکامات کے مطابق میت کی جائیداد کے سب سے پہلے حقدار اصحاب الفروض ہیں۔ ان سے بچا ہوا ترکہ عصبہ کو ملتا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی الله عنهما بيان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَلْحِقُوا الفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَر (صحيح البخاري، الفرائض: 6732).
تم فرض حصے یعنی مقرر حصے ان کے حقداروں تک پہنچا دو اور جو باقی بچ جائے وہ میت کے قریب ترین مرد کے لیے ہے۔
بھتیجی نہ اصحاب الفروض میں سے ہے اور نہ ہی عصبات میں اس کا شمار ہوتا ہے، بلکہ یہ اولوالارحام میں شامل ہے، جو اصحاب الفروض اور عصبات کی عدم موجودگی میں وارث ہوتے ہیں۔ اس لیے میت کی بیٹیاں وارث بنیں گی، بھتیجی کو کچھ نہیں ملے گا۔
والله أعلم بالصواب.