الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
سوال میں مذکور صورت حال کے مطابق میت کے ورثاء میں صرف دو بیٹیاں اور ایک بھتیجی ہے۔ میت کی کل جائیداد کی تقسیم شرعی اصولوں کے مطابق درج ذیل طریقہ سے کی جائے گی:
نمبر شمار میت کا ورثاء جائیداد کی تقسیم سارے مال کے 2حصے کر لیے جائیں
1. دو بیٹیاں کل مال کا دو تہائی+ باقی ايك حصہ ایک بیٹی اور دوسرا حصہ دوسری بیٹی کو ملے گا
2. ایک بھتیجی اس کو کچھ نہیں ملے گا -
دوبیٹیوں کے دو تہائی حصے کی دلیل:
ارشاد باری تعالی ہے:
فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ (النساء: 11)
پھر اگر وہ دو سے زیادہ عورتیں(ہی) ہوں، تو ان کے لیے اس کا دوتہائی ہے جو اس نے چھوڑا۔
بھتیجی اولو الارحام میں سے ہے، اولو الارحام کو تب حصہ ملتا ہے، جب اصحاب الفرائض اور عصبہ میں سے کوئی بھی نہ ہو۔ صورت مسؤلہ میں بیٹیاں اصحاب الفرائض میں سے موجود ہیں، اس لیے باقی ماندہ ایک تہائی بھی بیٹیوں میں ہی تقسیم کر دیا جائے گا۔
• یاد رہے کہ باقی ماندہ مال بیٹیوں کو اس صورت میں ملے گا جب عصبہ میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو، یعنی میت کا بیٹا، پوتا اگرچہ نیچے ہو، باپ ،دادا،سگا بھائی، سگے بھتیجے، علاتی بھائی، علاتی بھتیجے، سگا چچا،سگے چچے کے بیٹے، علاتی چچا، علاتی چچے کے بیٹےاسی طرح بیٹیوں کے پڑدادا کی اولاد وغیرہ میں سےکوئی بھی نہ ہو۔
والله أعلم بالصواب.