الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اسلام نے عورت کے تحفظ کے لیے بہت سے احکامات دیے ہیں، ان میں سے ایک حکم یہ بھی ہے کہ عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے، چاہے وہ سفر حج یا عمرہ وغیرہ کے لیے ہی کیوں نہ ہو، تاکہ اس کی عزت محفوظ رہے اور وہ فتنوں سے بچ سکے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
لاَ تُسَافِرِ المَرْأَةُ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ، وَلاَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا رَجُلٌ إِلَّا وَمَعَهَا مَحْرَم (صحيح البخاري، جزاء الصيد: 1862)
کوئی خاتون اپنے محرم کے بغیر سفر نہ کرے اور نہ اس کے پاس کوئی مرد ہی آئے جب تک اس کے ساتھ محرم موجو نہ ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’ کوئی خاتون اپنے محرم کے بغیر سفر نہ کرے اور نہ اس کے پاس کوئی مرد ہی آئے جب تک اس کے ساتھ محرم موجو نہ ہو۔‘‘ یہ سن کر ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ ! میں فلاں فلاں لشکر میں جانا چاہتا ہوں لیکن میری بیوی حج کا ارادہ رکھتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم اس کے ساتھ حج کے لیے جاؤ۔‘‘ (صحيح البخاري، جزاء الصيد: 1862)
حج عمرہ پر جانے کے لیے عورت کے ساتھ محرم کا ہونا ضروری ہے، داماد بھی اس کا محرم ہے وہ اس کے ساتھ حج پر جا سکتی ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ (النساء: 23)
حرام کی گئیں تم پر تمھاری مائیں اور تمھاری بیٹیاں اور تمھاری بہنیں اور تمھاری پھوپھیاں اورتمھاری خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمھاری وہ مائیں جنہوں نے تمھیں دودھ پلایا ہو اور تمھاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں۔
والله أعلم بالصواب.