سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
جنابت کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا
  • 5818
  • تاریخ اشاعت : 2026-04-20
  • مشاہدات : 6

سوال

کیا جنابت کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھنا جائز ہے، خاص طور پر آذان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سن کر ؟ کیا جنابت کی حالت میں سلام کرنا یا اس کا جواب دینا جائز ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

افضل اور بہتر یہی ہے کہ انسان مکمل طہارت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے، یا  اللہ تعالی کا ذکر کرے، لیکن اگر وہ جنابت کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتا ہے یا اللہ تعالی کا ذکر کرتا ہے، یا دعا کرتا ہےتو کوئی حرج نہیں ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَاماً وَقُعُوداً وَعَلَى جُنُوبِهِمآل عمران: 191(

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:
كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِه (صحيح مسلم، الحيض: 373)

رسول اللہﷺ اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے۔

بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کے بے شمار فضائل ہیں، لیکن اذان کا جواب ویسے ہی دیا جائے گاجیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے۔ سید نا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى الله عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًاإِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى الله عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ، لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللهِ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِي الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ (صحیح مسلم، الصلاۃ: 384)

جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے، پھر مجھ پر درود بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ مانگو کیونکہ وہ جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کو ملے گا اور مجھے امید ہے وہ میں ہوں گا، چنانچہ جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے (میری) شفاعت واجب ہو گئی۔

مذکورہ بالا حدیث سے ثابت ہوتا ہےکہ مؤذن کے جواب میں ویسے ہی الفاظ دہرائے جائیں گے جیسے وہ کہہ رہا ہے۔ جب وہ أشهد أن محمد رسول الله کہے گا تو جواب میں بھی أشهد أن محمد رسول الله  ہی کہا جائے گا۔ اذان ختم ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود اور مسنون دعا پڑھی جائے گی۔

جنابت کی حالت میں کس شخص کو سلام کرنے یا سلام کا جواب دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے