الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
خاوند کا یہ کہنا کہ سسرال میں اس سے اچھا برتاؤ نہیں رکھا جاتا اس لیے میں ان لوگوں سے مزید نہیں رکھنا چاہتا، اس جملے سے طلاق واقع نہیں ہوئی کیونکہ اس کا اپنی بیوی کو طلاق دینے کا بالکل بھی ارادہ نہیں تھا۔
مار پیٹ کے دوران شدید غصے کی حالت میں جو آپ نے طلاق کے الفاظ بولے ہیں ان کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اگر انسان اس قدر غصے میں آجائے کہ اس کے اعصاب قابو میں نہ رہیں، شدت غضب کی وجہ سے اس میں شعور اور احساس بھی نہ ہو، اسے کوئی پتہ نہ ہو کہ وہ کیا کر رہا ہے یا اپنی زبان سے کیا کہہ رہا ہے۔ اسے یہ شعور بھی نہ ہو کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے کر خود سے جدا کر رہا ہے۔ ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوئی، لہذا اگر آپ کی حالت ایسی تھی تو طلاق واقع نہیں ہوئی۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
لا طَلاَقَ ولا عِتَاقَ في غَلاَق. (سنن أبي داود،طلاق: 2193) (صحيح).
اغلاق كى حالت ميں نہ تو غلام آزاد ہوتا ہے اور نہ ہى طلاق ہوتى ہے۔
اہل علم كى ايك جماعت نے " اغلاق " كا معنى اكراہ يعنى جبر يا غصہ كيا ہے؛ يعنى شديد غصہ، جسے شديد غصہ آيا ہو جس وجہ سے اس کے اعصاب بے قابو ہو جائیں تو یہ شخص پاگل اور نشہ كى حالت والے شخص كے مشابہ ہے، اس كى طلاق واقع نہيں ہوگى۔
آپ اپنے سسرال سے تعلقات بہتر کریں تاکہ اس طرح کے ناخوشگوار واقعات دوبارہ نہ ہوں۔
والله أعلم بالصواب.