سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
’’من تم لوگوں سے مزید نہیں رکھنا چاہتا‘‘ ، کیا اس جملے سے طلاق ہو جائے گی؟
  • 5815
  • تاریخ اشاعت : 2026-04-18
  • مشاہدات : 8

سوال

خاوند اپنی بیوی کو لینے سسرال گیا۔ وہاں سسر اور بیوی کے ماموں سے تلخ کلامی ہو گئی۔ خاوند کہتا ہے کہ سسرال میں اس سے اچھا برتاؤ نہیں رکھا جاتا اس لیے میں ان لوگوں سے مزید نہیں رکھنا چاہتا۔ اس بات کو لڑکی والے طلاق سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ خاوند کا طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور نہ ہی لڑکی کو چھوڑنے کی نیت تھی۔ لڑکی کا ایک ماموں جوش میں آتا ہے وہ خاوند کو مارتا پیٹتا ہے، اسی اثناء میں لڑکی والوں کے بقول خاوند نے اپنی بیوی کو طلاق کے الفاظ کہے ہیں۔ واضح رہے کہ خاوند کو زدوکوب کیا جا رہاتھا اور وہ شدید غصے کے عالم میں تھا، شدید غصے کی حالت میں خاوند کو خود پر قابو نہیں رہتا، اس کو کچھ یاد نہیں ہوتا کہ اس نے کیا کہا اور کیا کیا۔ خاوند کی اس حالت کے گواہ بھی موجود ہیں۔ اس واقعے میں جب اس پر زدوکوب کیا گیا تو اسکو کچھ ہوش نہ رہا ، اس کا اپنی بیوی کو چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا نہ ہی سرے سے طلاق کی نیت۔ جبکہ لڑکی والوں کے بقول 3 طلاقیں ہو چکی ہیں اور رجوع کی کوئی صورت باقی نہیں ہے۔ خاوند بیان حلفی بھی دے چکا ہے کہ اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا اور شدید غصے کی وجہ سے اسے کوئی ہوش نہیں تھا۔ خاوند ایک مجلس کی 3 طلاقوں کو بھی ایک مانتا ہے اور کسی صورت گھر نہیں توڑنا چاہتا، وہ گھر بسانا چاہتا ہے اور اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہے۔

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

خاوند کا یہ کہنا  کہ سسرال میں اس سے اچھا برتاؤ نہیں رکھا جاتا اس لیے میں ان لوگوں سے مزید نہیں رکھنا چاہتا، اس  جملے سے طلاق واقع نہیں ہوئی کیونکہ اس کا اپنی بیوی کو طلاق دینے کا بالکل بھی ارادہ نہیں تھا۔

مار پیٹ کے دوران شدید غصے کی حالت میں جو آپ نے  طلاق کے الفاظ بولے ہیں ان کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اگر   انسان  اس قدر غصے میں آجائے کہ اس  کے اعصاب قابو میں نہ رہیں، شدت غضب کی وجہ سے اس میں شعور اور احساس بھی نہ ہو، اسے کوئی پتہ نہ ہو کہ وہ کیا کر رہا ہے یا اپنی زبان سے کیا کہہ رہا ہے۔  اسے یہ شعور بھی نہ ہو کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے کر خود سے جدا کر رہا ہے۔ ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوئی، لہذا اگر آپ کی حالت ایسی تھی تو طلاق واقع نہیں ہوئی۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

لا طَلاَقَ ولا عِتَاقَ في غَلاَق. (سنن أبي داود،طلاق: 2193) (صحيح).

اغلاق كى حالت ميں نہ تو غلام آزاد ہوتا ہے اور نہ ہى طلاق ہوتى ہے۔

اہل علم كى ايك جماعت نے " اغلاق " كا معنى اكراہ يعنى جبر يا غصہ كيا ہے؛ يعنى شديد غصہ، جسے شديد غصہ آيا ہو جس وجہ سے اس کے اعصاب بے قابو ہو جائیں تو یہ شخص پاگل اور نشہ كى حالت والے شخص كے مشابہ ہے، اس كى طلاق واقع نہيں ہوگى۔

آپ اپنے سسرال سے تعلقات بہتر کریں تاکہ اس طرح کے ناخوشگوار واقعات دوبارہ  نہ ہوں۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے