الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اللہ تعالی کا کوئی بھی حکم اور فیصلہ حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس لیے انسان کا ایمان ہونا چاہیےکہ اللہ تعالی نے جو بھی قرآن وسنت میں احکامات دیے ہیں اس میں ہمارے لیے بےشمار حکمتیں اور فوائد ہیں۔ ہمیں ان حکمتوں میں سے بعض کی آگاہی ہو جاتی ہے، لیکن بعض اوقات ہمیں حکم الہی میں حکمت کا ادراک نہیں ہوپاتا؛ کیوں کہ ہمارا علم ناقص ہے۔ لیکن ہمارا ایمان تقاضا کرتا ہے کہ ہم سر تسلیم خم کر دیں؛ کیوں کہ ارشاد باری تعالی ہے:
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّة وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌﱠ. (البقرة: 208).
اے لوگوجو ایمان لائے ہو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو، یقینا وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔
البتہ بعض علماء کرام نے ظہر اور عصر کی نماز میں قراءت سری ہونے کی حکمت بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔
امام ابن القيم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
رات اور دن کی نماز میں فرق کرنا نہایت مناسب اور حکمت پر مبنی ہے، کیونکہ رات کے وقت شور نہیں ہوتا، پرسکون ماحول ہوتا ہے، دل یکسو ہوتا ہے اور دن بھر بکھری ہوئی توجہات کے یکجا ہونے کا وقت ہوتا ہے۔ جبکہ دن کے اوقات میں دل اور بدن دونوں انتہائی مشغول ہوتے ہیں۔ اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ ہے کہ فجر کی نماز میں دیگر نمازوں کے مقابلے میں قراءت زیادہ کی جائے ۔ رسول اللہ ﷺ اس میں ساٹھ سے سو آیات تک تلاوت فرمایا کرتے تھے، کیونکہ اس وقت انسان کا دل پوری طرح متوجہ ہوتا ہے اور ہر طرح کی فکراور الجھنوں سے آزاد ہوتا ہے۔
دن کے اوقات میں کیفیت اس کے برعکس ہے، اس لیے دن کی نمازوں میں قراءت آہستہ (سری) رکھی گئی ہے؛ مگر جب کوئی ایسی قوی وجہ سامنے آ جائے جو اس کے خلاف ہو، جیسے عیدین، جمعہ، استسقاء اور خسوف کے بڑے اجتماعات ، تو اس وقت بلند آواز سے قراءت کرنا زیادہ بہتر اور مقصد کے حصول میں زیادہ مؤثر ہوتا ہے، اور حاضرین کے لیے زیادہ فائدے مند ہوتا ہے۔ نیز اتنے زیاد لوگوں کے اکٹھ میں اللہ کے کلام کی تلاوت اور اس کی تبلیغ کرنا، رسالت کے عظیم مقاصد میں سے ہے۔ (اعلام الموقعین از ابن القیم، جلد 2، ص 91)
حاشیۃ الجمل میں ہے:
کچھ نمازوں میں تلاوت کو بلند کرنے اور کچھ میں آہستہ رکھنے کی حکمت یہ ہے کہ رات کے وقت انسان خلوت میں ہوتا ہے، اس وقت بیداری و سرگوشی کرنا خوشگوار لگتا ہے، لہذا قراءت کو بلند آواز سے کرنے کا کہا گیا ہے تاکہ انسان اپنے رب سے مناجات کی لذت حاصل کر سکے۔ دن مشغولیت اور لوگوں سے میل جول کا وقت ہوتا ہے، اس لیے اس میں آہستہ قراءت کرنے کا حکم ہے، کیونکہ یہ وقت مناجات کے لیے مکمل طور پر موزوں نہیں ہے۔ فجر کی نماز کو بھی رات کی نماز کے ساتھ ملایا گیا ہے، کیونکہ یہ وقت عام طور پر دنیاوی مشاغل کے لیے نہیں ہوتا۔ (حاشية الجمل، ج1، ص 359)
والله أعلم بالصواب.