سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
کتنی دور گھر ہو تو باجماعت نماز ادا کرنا واجب ہے
  • 5799
  • تاریخ اشاعت : 2026-03-04
  • مشاہدات : 14

سوال

لندن میں میرے گھر سے قریبی ترین مسجد ڈیڑھ کلومیٹر دور ہے، کیا میں اپنے گھر میں فرض نماز پڑھ سکتا ہوں؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

باجماعت ادا کرنا فرض ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ فَلْتَقُمْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ مَعَكَ وَلْيَأْخُذُوا أَسْلِحَتَهُمْ فَإِذَا سَجَدُوا فَلْيَكُونُوا مِنْ وَرَائِكُمْ وَلْتَأْتِ طَائِفَةٌ أُخْرَى لَمْ يُصَلُّوا فَلْيُصَلُّوا مَعَكَ (النساء: 102)

اور جب تو ان میں موجود ہو، پس ان کے لیے نماز کھڑی کرے تو لازم ہے کہ ان میں سے ایک جماعت تیرے ساتھ کھڑی ہو اور وہ اپنے ہتھیار پکڑے رکھیں، پھر جب وہ سجدہ کر چکیں تو تمھارے پیچھے ہو جائیں اور دوسری جماعت آئے جنھوں نے نماز نہیں پڑھی، پس تیرے ساتھ نماز پڑھیں۔

اللہ تعالی نے حالت جنگ میں باجماعت نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے اور احادیث  میں جنگ کے دوران نماز پڑھنے کی مختلف کیفیات کا تفصیل کے ساتھ ذکر موجود ہے  اس سے ہمیں آگاہی ملتی ہے کہ عام حالات میں بھی باجماعت نماز پڑھنا واجب ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ، فَيُحْطَبَ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلاَةِ، فَيُؤَذَّنَ لَهَا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ (صحيح البخاري، الأذان: 644،  صحيح مسلم،  المساجد ومواضع الصلاة: 651)

اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ کسی کو لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں تاکہ لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائے، پھر نماز کے لیے کسی کو اذان دینے کے متعلق کہوں، پھر کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کا امام بنے اور میں خود ان لوگوں کے پاس جاؤں (جو جماعت میں شریک نہیں ہوتے)، پھر انہیں ان کے گھروں سمیت جلا دوں۔

مسجد سے گھر جتنا زيادہ دور ہو گا، اجروثواب بھى اتنا ہى زيادہ ہو گا۔

سیدناابو موسى رضى اللہ عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

أَعْظَمُ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلاَةِ أَبْعَدُهُمْ، فَأَبْعَدُهُمْ مَمْشًى (صحيح البخاري، الأذان: 651)

لوگوں ميں نماز ميں سب سے زيادہ اجروثواب والا وہ آدمی ہے جو زيادہ دور اور زيادہ چلنے والا ہو۔

 

باجماعت نماز ادا کرنا اس شخص پر واجب ہے جو مسجد سے قریب رہتا ہو، یعنی اس کا گھر مسجد سے اتنا قریب ہو کہ اگر مؤذن بغیر سپیکر کے  بلند آواز سے اذان دے، گاڑیوں وغیرہ کا شور شرابہ بھی نہ ہو اور ہوا بھی تھمی ہوئی ہو، تو اسے اذان سنائی دے، ایسے شخص پر باجماعت نماز ادا کرنے کے لیے مسجد میں آنا واجب ہے۔

سیدنا ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان کرتے ہیں کہ ايك نابينا شخص نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے اللہ كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم!  مجھے مسجد تك لانے كے ليے كوئى شخص نہيں ہے، چنانچہ اس نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے اپنے گھر ميں نماز ادا كرنے كى رخصت طلب كى۔ آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے رخصت دے دى۔ جب وہ جانے لگا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے بلايا اور فرمايا:

هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلاةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَأَجِبْ  (صحيح مسلم،  المساجد ومواضع الصلاة: 653)

كيا تمہیں اذان سنائی دیتی ہے؟ اس نے جواب دیا: جى ہاں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: تو پھر آيا كرو۔

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضى اللہ  عنہما بیان کرتے ہیں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يَأْتِهِ، فَلَا صَلَاةَ لَهُ، إِلَّا مِنْ عُذْر (سنن ابن ماجه، المساجد والجماعات: 793)

جس  شخص نے اذان سنى اور نماز كے ليے نہ آيا تو اس كى نماز ہى نہيں، سوائے اس کے کہ اس کا كوئى عذر ہو۔

 

ليكن اگر اس كا گھر مسجد سے اتنا دور ہے كہ لاؤڈ سپيكر كے بغير اذان كى آواز نہيں آتى، تو اس كے ليے مسجد ميں جا كر نماز باجماعت ادا كرنا لازمی نہيں ہے،  لیکن اگر وہ مسجد میں آتا ہے تو اس کا اجر وثواب  اللہ تعالی کے ہاں زیادہ ہے۔

عام طور پر غیر مسلم ممالک میں مساجد  میں لاؤڈ سپیکر استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوتی، وہاں اذان کی آواز ساتھ والے گھر میں بھی سنائی نہیں دیتی، وہاں ذرائع آمد ورفت بہترین ہوتے ہیں، اس لیے  آپ کو چاہیے کہ مسجد میں باجماعت نماز ادا کریں۔

والله أعلم بالصواب

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے