الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اس سوال کا جواب امام شاطبی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الاعتصام میں دیا ہے، وہ فرماتے ہیں:
وَإِنَّمَا لَمْ يُقِمْ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِأَحَدِ أَمْرَيْنِ: إِمَّا لِأَنَّهُ رَأَى أَنَّ قِيَامَ النَّاسِ آخِرَ اللَّيْلِ وَمَا هُمْ بِهِ عَلَيْهِ كَانَ أَفْضَلَ عِنْدَهُ مِنْ جَمْعِهِمْ عَلَى إِمَامٍ أَوَّلَ اللَّيْلِ، ذَكَرَهُ الطَّرْطُوشِيُّ، وَإِمَّا لِضِيقِ زَمَانِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّظَرِ فِي هَذِهِ الْفُرُوعِ، مَعَ شُغْلِهِ بِأَهْلِ الرِّدَّةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِمَّا هُوَ آكَدُ مِنْ صَلَاةِ التَّرَاوِيحِ.فَلَمَّا تَمَهَّدَ الْإِسْلَامُ فِي زَمَنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَرَأَى النَّاسَ فِي الْمَسْجِدِ أَوْزَاعًا كَمَا جَاءَ فِي الْخَبَرِ قَالَ: لَوْ جُمِعَتِ النَّاسُ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ، فَلَمَّا تَمَّ لَهُ ذَلِكَ; نَبَّهَ عَلَى أَنَّ قِيَامَهُمْ آخِرَ اللَّيْلِ أَفْضَلُ.ثُمَّ اتَّفَقَ السَّلَفُ عَلَى صِحَّةِ ذَلِكَ وَإِقْرَارِهِ، وَالْأُمَّةُ لَا تَجْتَمِعُ عَلَى ضَلَالَةٍ. (الاعتصام للشاطبی، جلد 1، ص249)
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کام کو دو میں سے کسی ایک وجہ کی بناپر نہیں کیا:
1. یا تو ان کی رائے یہ تھی کہ لوگوں کا رات کے آخری حصے میں الگ الگ قیام کرنا، انہیں شروع رات میں ایک امام کے پیچھے جمع کرنے سے زیادہ افضل ہے۔ اس بات کا ذکر طرطوشی نے کیا ہے۔
2. یا پھر ان کی خلافت کے دورانیے کے مختصر ہونے اور دیگر اہم مشاغل ،خصوصاً مرتدین کے خلاف جہاد وغیرہ نے انہیں ان فروعی مسائل پر غور کرنے کا موقع ہی نہیں دیا، کیونکہ یہ معاملات تراویح کی نماز سے بہت زیادہ اہم تھے۔
پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اسلام مضبوط ہو گیا اور انہوں نے لوگوں کو مسجد میں مختلف جماعتوں اور منتشر حالت میں دیکھا، جیسا کہ روایت میں آیا ہے، تو انہوں نے فرمایا: اگر میں لوگوں کو ایک قاری کے پیچھے جمع کر دوں تو یہ زیادہ مناسب ہوگا۔ چنانچہ جب انہوں نے ایسا کر لیا تو اس بات کی بھی تنبیہ فرما دی کہ رات کے آخری حصے میں قیام کرنا زیادہ افضل ہے۔ اس کے بعد سلف صالحین کا اس کے درست اور جائز ہونے پر اتفاق ہو گیا، اور امت گمراہی پر جمع نہیں ہوتی۔
والله أعلم بالصواب.