الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد رفع الیدین كرنا بہت سی احادیث سے ثابت ہے ، یہ بالکل بھی منسوخ نہیں ہوا۔ درج ذیل نکات سے یہ بات مزید واضح ہو جاتی ہے:
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ، وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا ، وَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ، وَكَانَ لاَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ (صحيح البخاري، الأذان: 735)
رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر اٹھاتے۔ جب رکوع کے لیے اللہ أکبر کہتے، جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تب بھی اپنے دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے اور سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد (دونوں) کہتے لیکن سجدوں میں یہ عمل نہ کرتے تھے۔
اس حدیث میں كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ الفاظ آئے ہیں، جس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ اپنی تمام زندگی تمام نمازوں میں رفع الیدین کرتے رہے ہیں کیونکہ كَانَ يَرْفَعُ ماضی استمراری کا صیغہ ہے۔ ماضی استمراری کسی کام کے گزشتہ زمانے میں ہمیشہ جاری رہنے پر دلالت کرتا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا یہ عمل ہمیشہ رہا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام (نماز میں رکوع جاتے ہوئے اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد) رفع الیدین کیا کرتے تھے۔
امام بخاری رحمہ اللہ امام حسن بصری رحمہ اللہ کے اس قول پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
فَلَمْ يَسْتَثْنِ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَ أَحَدٍ، وَلَمْ يَثْبُتْ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يَرْفَعْ يَدَيْه
حسن بصری نے کسی بھی صحابی کو مستثنی نہیں کیا، اور نہ ہی کسی صحابی سے یہ ثابت ہے کہ انہوں نے رفع الیدین نہیں کیا ہو۔
دیکھیں: جزء رفع اليدين از امام بخاری، صفحہ نمبر 7)
اس موضوع پر تفصیل سے جاننے کے لیے درج ذیل کتب کا مطالعہ مفید رہے گا۔
نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین عند الرکو ع و بعدہ فی الصلوة
از زبیر علی زئی رحمہ اللہ
مسئلہ رفع الیدین پر ایک نئی کاوش کا تحقیقی جائزہ
از ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ
والله أعلم بالصواب.