سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
کیا رفع الیدین منسوخ ہو گیا تھا؟
  • 5789
  • تاریخ اشاعت : 2026-02-18
  • مشاہدات : 212

سوال

کیا رفع الیدین منسوخ ہو گیا تھا؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد رفع الیدین كرنا بہت سی احادیث سے ثابت ہے ، یہ بالکل بھی منسوخ نہیں ہوا۔ درج ذیل نکات سے یہ بات مزید واضح ہو جاتی ہے:

  • رفع الیدین کی احادیث تمام عشرہ مبشرہ صحابہ کرام کے علاوہ 37 کبار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے مروی ہیں۔
  • ان تمام صحابہ کرام میں سے کسی نے بھی یہ بیان نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عمر میں رفع الیدین ترک کر دیا تھا۔
  • رفع اليدين كي صحيح ترين روايت سيدنا عبد الله بن عمر رضی الله عنهما سے مروی ہے  جس میں وہ بیان کرتے ہیں:

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ، وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا ، وَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ، وَكَانَ لاَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ (صحيح البخاري، الأذان: 735)

رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر اٹھاتے۔ جب رکوع کے لیے اللہ أکبر کہتے، جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تب بھی اپنے دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے اور سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد (دونوں) کہتے لیکن سجدوں میں یہ عمل نہ کرتے تھے۔

اس حدیث میں كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ  الفاظ آئے ہیں، جس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ اپنی تمام زندگی تمام نمازوں میں رفع الیدین کرتے رہے ہیں کیونکہ كَانَ يَرْفَعُ ماضی استمراری کا صیغہ ہے۔  ماضی استمراری کسی کام کے گزشتہ زمانے میں ہمیشہ جاری رہنے پر دلالت کرتا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا یہ عمل ہمیشہ رہا ہے۔

  • رفع الیدین کے بارے میں سیدنا مالک بن حویرث سے بھی حدیث مروی ہیں  کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رفع الیدین کرتے دیکھا۔ مالک بن حویرث 9 ہجری میں مسلمان ہوئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری عمر تک رفع الیدین کرتے رہے ہیں۔
  • وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رفع الیدین کرتے دیکھا اور وائل رضی اللہ عنہ بھی 9 ہجری میں مسلمان ہوئے ہیں۔
  • امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب جزء رفع الیدین  میں  حسن بصری رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے کہ  وہ فرماتے ہیں: كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام  (نماز میں رکوع جاتے  ہوئے اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد)  رفع الیدین کیا کرتے تھے۔

امام بخاری رحمہ اللہ امام حسن بصری رحمہ اللہ کے اس قول پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

فَلَمْ يَسْتَثْنِ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَ أَحَدٍ، وَلَمْ يَثْبُتْ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يَرْفَعْ يَدَيْه

حسن بصری نے کسی بھی صحابی کو مستثنی نہیں کیا، اور نہ ہی کسی صحابی سے یہ ثابت ہے کہ انہوں نے رفع الیدین نہیں کیا ہو۔
                                                                                    دیکھیں: جزء رفع اليدين از امام بخاری، صفحہ نمبر 7)

 

اس موضوع پر تفصیل سے جاننے کے لیے درج ذیل کتب کا مطالعہ مفید رہے گا۔

نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین عند الرکو ع و بعدہ فی الصلوة

از زبیر علی زئی رحمہ اللہ

کیا رفع الیدین منسوخ ہے؟

از حافظ محمد ادریس کیلانی

مسئلہ رفع الیدین پر ایک نئی کاوش کا تحقیقی جائزہ 

از ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ

میں رفع الیدین کیوں کروں؟

از ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے