سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
اذان اور اقامت کا درمیانی وقت کتنا ہونا چاہیے؟
  • 5788
  • تاریخ اشاعت : 2026-02-18
  • مشاہدات : 158

سوال

اذان اور اقامت کا درمیانی وقت کتنا ہونا چاہیے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قرآن وسنت میں اذان اور اقامت کے درمیانی وقت کی کوئی تحدید نہیں کی گئی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے،  سیدہ ام فروہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا، اعمال میں سے کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

 الصَّلَاةُ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا (سنن أبي داود، الصلاة: 426)(صحيح)

نماز اول وقت میں ادا کرنا۔

اس لیے اگر انسان نے اکیلے نماز ادا کرنی  ہو، قریب کوئی مسجد نہ ہو تو افضل یہ ہے کہ جوں ہی نماز کاوقت داخل ہو، نماز ادا کرلے۔

  • مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کے لیے اذان اور اقامت کے درمیان اتنا وقت ضرور دینا چاہیے کہ لوگ آسانی کے ساتھ وضو وغیرہ کر کے مسجد میں آ جائیں۔ 
  • اگر لوگوں کو مشقت نہ ہو تو عشاء کی نماز کو تاخیر سے پڑھنا افضل ہے۔

 سیدنا عطاء بن ابی رباح  بیان کرتے ہیں کہ ایک رات ایسا ہوا کہ نبی ﷺ نے نماز عشاء میں دیر کی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ  نکلے اور کہا: اللہ کے رسول! نماز پڑھائیں، اب تو عورتیں اور بچے سونے لگے ہیں۔ اس وقت آپ حجرے سے برآمد ہوئے اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، فرمانے لگے: ”اگر میری امت پرمشکل نہ ہوتی تو میں اس وقت انہیں یہ نماز پڑھنے کا حکم دیتا۔“ ایک روایت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے نماز عشاء میں دیر کی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! عورتیں اور بچے سوگئے ہیں۔ (یہ سن کر) آپ باہر تشریف لائے جبکہ آپ اپنی ایک جانب سے پانی صاف کر رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”اگر میں اپنی امت پر مشکل نہ سمجھتا تو اس نماز کا عمدہ وقت یہی ہے۔ (صحيح البخاري، التمني: 7239)

  • شدید گرمی کے دنوں میں ظہر کی نماز کو تاخیر سے پڑھنا افضل ہے۔

سيدنا ابوذر غفاری  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ہمراہ سفر میں تھے کہ مؤذن نے نماز ظہر کے لیے اذان دینے کا ارادہ کیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’ابھی ٹھنڈے وقت کا انتظار کرو۔‘‘ اس نے کچھ دیر بعد پھر اذان دینے کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا: ’’ابھی ٹھنڈے وقت کا انتظار کرو۔‘‘ تاآنکہ ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھا۔ اس کے بعد نبی ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ شِدَّةَ الحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاَةِ (صحیح البخاری، مواقیت الصلاۃ: 539)

گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہوتی ہے، اس لیے جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے