سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
امت محمدیہ تہتر فرقوں میں بٹے گی
  • 5786
  • تاریخ اشاعت : 2026-04-03
  • مشاہدات : 97

سوال

کیا یہ حدیث صحیح ہے کہ میری امت 73 فرقوں میں بٹ جائے گی جس میں سے صرف ایک فرقہ جنت میں جائے گا؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ حدیث بالکل صحیح ہے اور سنن ترمذی اور دیگر کتب حدیث میں موجود ہے۔

سيدنا عبداللہ بن عمرو رضی الله عنهما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلَانِيَةً لَكَانَ فِي أُمَّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً قَالُوا وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي (سنن ترمذي، أبواب الإيمان: 2641)

میری امت کے ساتھ ہو بہو وہی صورت حال پیش آئے گی جو بنی اسرائیل کے ساتھ پیش آ چکی ہے، (یعنی مماثلت میں دونوں برابر ہوں گے) یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے اگر اپنی ماں کے ساتھ اعلانیہ زنا کیا ہو گا تو میری امت میں بھی ایسا شخص ہو گا جو اس فعل شنیع کا مرتکب ہو گا، بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے اورمیری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، اور ایک فرقہ کو چھوڑ کر باقی سبھی جہنم میں جائیں گے، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ! یہ کون سی جماعت ہو گی؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’یہ وہ لوگ ہوں گے جو میرے اور میرے صحابہ کے نقش قدم پر ہوں گے

اس حدیث میں نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ میری امت پر بھی وہی زمانہ آئے گاجیسا بنی اسرائیل پر آیا تھا،  یعنی جس طرح کے فتنے اور آزمائشیں بنی اسرائیل میں پیدا ہوئیں، ویسے ہی میری امت میں بھی پیدا ہوں گی۔ یہاں تک کہ اگر بنی اسرائیل میں کوئی شخص اپنی ماں کے ساتھ علانیہ بدکاری کرتا تھا، تو میری امت میں بھی ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو ایسا ہی گھناؤنا کام کریں گے۔پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل بہتر (72) فرقوں میں بٹ گئے،  یعنی وہ 72 گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔ دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تعداد عیسائیوں کے بارے میں ہے، جبکہ یہودی 71 فرقوں میں بٹے تھے،اور میری امت 73 فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی،  یعنی میری امت میں اختلاف اور تفرقہ اس سے بھی بڑھ جائے گا۔ان میں سے سب جہنم میں جائیں گے، سوائے ایک کے،  یعنی وہ تمام فرقے جو حق سے ہٹ جائیں گے، توحید کے اصولوں میں اور خیر و شر کے عقیدے میں گمراہی اختیار کریں گے، وہ عذاب کے مستحق ہوں گے۔صحابہ رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا: اے اللہ کے  رسول ! وہ ایک فرقہ کون سا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر ہوگا۔یعنی نجات پانے والا گروہ وہ ہوگا جو نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے دین اور عقیدے کو مضبوطی سے تھامے رکھے گا، کتاب و سنت کی پیروی کرے گا، اور دین کے ابتدائی خالص طریقے پر قائم رہے گا۔

اس  حدیث میں بنی اسرائیل کی روش اختیار کرنے سے خبردار کیا گیا ہے، اور اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ہی نجات کا راستہ ہے۔

والله أعلم بالصواب.

 

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے