سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
ایک وقت کی تین طلاقیں تین شمار ہوں گی یا ایک؟
  • 5780
  • تاریخ اشاعت : 2026-02-16
  • مشاہدات : 5

سوال

ایک وقت کی تین طلاقیں تین شمار ہوں گی یا ایک؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قرآن وسنت کی روشنی میں اکٹھی تین طلاقیں دینا حرام ہے، ایسا کرنے والے کو اللہ تعالی سے اپنے گناہ کی معافی مانگنا چاہیے، لیکن اگر کوئی انسان اکٹھی تین طلاقیں دے دے تو وہ ایک ہی شمار ہو گی۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَة)). (صحيح مسلم، الطلاق: 1472).

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے دو سال تک  (اکٹھی) تین طلاقیں ایک طلاق ہی شمار ہوتی تھیں۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے طلاق کےناجائز طریقے کی روک تھام کے لیے ایک سیاسی فیصلہ کیا تھا کہ جس نے اکٹھی تین طلاقیں دے دیں  ہم اسے نافذ کر دیں گے، یہ وقتی سیاسی فیصلہ تھا،  شرعی نہیں تھا۔ (حاشية الطحاوي على الدر المختار: 2/105).

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے