سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

مسجد میں داخل ہوتے ہوئے السلام علیکم کہنا

  • 5727
  • تاریخ اشاعت : 2025-03-03
  • مشاہدات : 65

سوال

کیا مسجد میں داخل ہوتے ہوئے السلام علیکم کہنا درست عمل ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

انسان جب بھی اپنے مسلمان بھائی  سے ملاقات کرے اسے چاہیے کہ  سلام کرے۔ یہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے سلام کرنے کی بہت زیادہ تاکید کی ہے حتی کہ فرمایا:

إذا لقيَ أحدُكُم أخاه فليُسلم عليهِ، فإن حالت بينهما شجرةٌ أو جِدَارٌ أو حجرٌ، ثم لقيَهُ، فليُسلم عليه (سنن أبي داود، الأدب: 5200) (صحيح)

جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے تو اسے سلام کہے۔ پس اگر ان کے درمیان کوئی درخت، دیوار یا پتھر حائل ہو جائے اور پھر دوبارہ ملے، تو بھی سلام کہے۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ قِيلَ: مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ (صحيح مسلم، السلام: 2162)

مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں (سب سے پہلا حق بیان کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اسے ( دوسرے مسلمان کو) ملے تو سلام کرے۔

اس لیے انسان جب مسجد میں جائے تو اسے چاہیے کہ سلام کرے۔

اگر مسجد میں بیٹھا شخص نماز نہیں پڑھ رہا تو وہ بول کر سلام کا جواب دے گا اور جو نماز کی حالت میں ہو وہ ہاتھ کے اشارے سے جواب دے سکتا ہے۔ نماز ختم  ہونے کے بعد اگر سلام کرنے والا موجود ہو تو اسے بول کر وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہہ دے، اگروہ جا چکا ہو تو اشارہ ہی کافی ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (مسجد) قبا میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لے گئے۔ (اس اثنا میں آپ ﷺ کے پاس) انصار آ گئے۔ وہ آپ کو سلام کہتے تھے جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماکہتے ہیں کہ میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ ﷺ کو کس طرح جواب دیتے ہوئے دیکھا، جب کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے اور وہ لوگ آپ کو سلام کہتے تھے؟ انہوں نے کہا: اس طرح اور اپنی ہتھیلی پھیلائی۔ (سنن أبي داود،  الصلاة: 927) (صحیح).

والله أعلم بالصواب.

تبصرے