سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
سنتیں اور نوافل گھر میں ادا کرنا افضل ہے
  • 5707
  • تاریخ اشاعت : 2025-01-25
  • مشاہدات : 461

سوال

فرض نماز کے بعد بقیہ نماز گھر میں پڑھنا کیسا ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

انسان کو چاہیے کہ وہ عمل کرے جس میں ثواب اوراجر زیادہ ہو، کیونکہ روز قیامت اسے ایک ایک نیکی کی قدر ہوگی جو اس نے دنیا میں کی تھی۔ اگرچہ مسجد میں سنتیں اور نوافل ادا کرنا جائز ہے، لیکن گھر میں پڑھنا افضل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی سنتیں اور نوافل گھر میں پڑھا کرتے تھے۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

صَلاةُ المرء في بيته أفضلُ مِنْ صلاته في مسجدي هذا، إلا المكتوبة. (سنن أبي داود: 1044) (صحيح)

آدمی کا اپنے گھر میں نماز پڑھنا میری اس مسجد (مسجد نبوی ﷺ) میں نماز پڑھنے سے افضل ہے سوائے فرض نماز کے۔

اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ کام کرے جو اس کےلیے زیاد اجر وثواب کا باعث ہو، ویسے بھی گھر میں نماز پڑھنے کی کئی ایک حکمتیں علماء نے بیان کیں ہیں، چند ایک درج ذیل ہیں:

1. گھر میں نماز پڑھنے میں اخلاص زیادہ ہوتا ہے۔

2. گھر والے بھی نماز شوق اور رغبت سے ادا کرتے ہیں۔  بچوں میں خاص طور پر نماز کا شوق پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنے بڑوں سے نماز کا طریقہ سیکھتے ہیں۔

3. ایسا کرنے سے گھر اللہ کی عبادت سے آباد ہوتا ہے۔

والله أعلم بالصواب.

تبصرے