الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
عقیقہ بچہ پیدا ہونے کی خوشی میں اللہ تعالی کے شکرانے کےطور ضروری قرار دیا گیا ہے۔
عقیقے کے گوشت کی تقسیم کے حوالے سے احادیث مبارکہ میں کوئی واضح رہنمائی نہیں کی گئی، اس لیے عقیقہ کا گوشت انسان خود بھی کھائے اور اپنے اہل وعیال کو بھی کھلائے۔ رشتے داروں او ر ہمسایوں کو بھی دیا جا سکتا ہے۔ کچھ صدقہ بھی کر دے۔
بہتر یہی ہے کہ عقیقے کے گوشت سے کچھ نہ کچھ صدقہ کر دیا جائے۔ اگر سارا گوشت ہی ولیمہ میں استعمال کرلے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ افضل اور مستحب عمل یہی ہے کہ عقیقہ بچہ پیدا ہونے کے بعد ساتویں دن کیا جائے، جیسا کہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كلُّ غلامٍ رَهينةٌ بعقيقتِه: تُذبَح عنه يومَ سابعِه، ويُحلَقُ، ويُسمَّى (سنن أبي داود، الأضاحي: 2838). (صحيح)
’’ہر بچہ اپنے عقیقہ کے ساتھ گروی ہوتا ہے، جو اس کی طرف سے ساتویں دن ذبح کیا جائے گا، اس کے سر کو منڈوایا جائے گا اور اس کا نام رکھا جائے گا‘‘۔
اس لیے اگر ساتویں دن ولیمہ بھی ہو، تو عقیقے کا گوشت ولیمے میں استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن عقیقے کو اس ارادے سے ساتویں دن سے مؤخر کرنا کہ بعد میں ولیمے کے موقع پر عقیقے کی نیت سے جانور ذبح کر کے گوشت ولیمے میں استعمال ہوجائے گا مناسب نہیں ہے۔
والله أعلم بالصواب.