الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
ہر بالغ انسان پر باجماعت نماز ادا کرنا فرض ہے ۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ، فَيُحْطَبَ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلاَةِ، فَيُؤَذَّنَ لَهَا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ، أَنَّهُ يَجِدُ عَرْقًا سَمِينًا، أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ، لَشَهِدَ العِشَاءَ (صحيح اليخاري، كتاب الأذان: 644)
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ کسی کو لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں تاکہ لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائے، پھر نماز کے لیے کسی کو اذان دینے کے متعلق کہوں، پھر کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کا امام بنے اور میں خود ان لوگوں کے پاس جاؤں (جو جماعت میں شریک نہیں ہوتے)، پھر انہیں ان کے گھروں سمیت جلا دوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر ان میں سے کسی کو معلوم ہو جائے کہ وہ مسجد میں موٹی (گوشت والی) ہڈی یا دو عمدہ گوشت والے پائے حاصل کرے گا تو وہ نماز عشاء میں ضرور حاضر ہو۔
دوسری حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک نابینا آدمی حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کےرسولﷺ! مجھے کوئی لانے والا نہیں جو (ہاتھ سے پکڑ کر) مجھے مسجد میں لے آئے۔ اس نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ اسے اجازت دی جائے کہ وہ اپنے گھر میں نماز پڑھ لے۔ آپﷺ نے اسے اجازت دے دی، جب وہ واپس ہوا تو آپ ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا:
هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَجِبْ (صحيح مسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة: 653)
کیا تم نماز کا بلاوا (اذان) سنتے ہو؟‘‘ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’تو اس پر لبیک کہو۔
1. اس لیے انسان پر لازم ہے کہ وہ باجماعت نماز ادا کرنے کے لیے مسجد میں جائے۔
2. اگر انسان آبادی سے دور رہتا ہو، جہاں کوئی مسجد نہیں ہے، تو اسے چاہیے کہ اذان کے بعد پہلے نماز فجر ادا کرے، پھر نماز کے بعد کے اذکار اور صبح کے اذکار کرے، پھر جتنی دیر قرآن پڑھنا چاہے پڑھ لے۔ عورت کے لیے بھی یہی حکم ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا: اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’نماز کی بروقت ادائیگی۔‘‘ انھوں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: ’’والدین سے حسن سلوک۔‘‘ انھوں نے عرض کیا: اس کے بعد کون سا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔‘‘ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے اسی قدر بیان کیا، اگر میں مزید پوچھتا تو آپ اور بیان فرماتے۔ (صحيح البخاري، كتاب مواقيت الصلاة: 527)
والله أعلم بالصواب.