الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر بیوی نے غسل جنابت نہ بھی کیا ہو، تو خاوند کے لیے اسے چھونے یا بوسہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ اگر خاوند دوبارہ جماع کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔
سيدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ، فَلْيَتَوَضَّأْ (صحيح مسلم ، كتاب الحيض: 308)
جب تم میں سے کسی نے اپنی بیوی سے مباشرت کرلی، پھر سے کرنا چاہے تو وہ وضو کر لے۔
1. یاد رہے! اگر بیوی کو چھونے یا بوسہ دینے سے مذی خارج ہو جائے تو شرمگاہ کو دھونا واجب ہے، لیکن جس جگہ کپڑوں پر مذی لگی ہو، وہاں چلو بھر پانی سے چھینٹے مارنا کافی ہو گا۔
سيدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بکثرت مذی آتی تھی، چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں اس لئے مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی، میں نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھیں، چنانچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يَغْسِلُ ذَكَرَهُ وَأُنْثَيَيْهِ وَيَتَوَضَّأُ (سنن أبي داود، كتاب الطهارة: 208، مسند أحمد: 1009) (صحيح)
ایسا شخص اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کر لیا کرے۔
سيدنا سہل بن حنیف ؓ کہتے ہیں کہ مجھے مذی کی وجہ سے پریشانی اور تکلیف سے دوچار ہونا پڑتا تھا، میں اس کی وجہ سے کثرت سے غسل کیا کرتا تھا، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا اور اس سلسلے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا:
إِنَّمَا يُجْزِئُكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي مِنْهُ قَالَ يَكْفِيكَ أَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَتَنْضَحَ بِهِ ثَوْبَكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَ مِنْهُ (سنن ترمذی، أَبْوَابُ الطَّهَارَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: 115) (صحيح)
اس کے لیےتمہیں وضو کافی ہے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر وہ کپڑے میں لگ جائے تو کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: تو ایک چلو پانی لے اور اسے کپڑے پر جہاں جہاں دیکھے کہ وہ لگی ہے چھڑک لے یہ تمہارے لیےکافی ہوگا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیا ن کرتے ہیں کہ منی سے غسل کیا جائے گا، ودی اور مذی نکلننے سے اپنی شرمگاہ کو دھو لو اور نماز کی طرح وضو کرو۔ (السنن الکبری للبیهقی: 800)
والله أعلم بالصواب.