الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر انسان نے دل سے طلاق دینے کا ارادہ کیا ہو یا اسے طلاق کا خیال آیا ہو، لیکن اس نے اپنی زبان سے يا لكھ کر طلاق نہیں دی، توطلاق واقع نہیں ہوتی۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَتَكَلَّمْ (صحيح البخاري، كتاب الطلاق: 5269، صحيح مسلم، كتاب الإيمان: 127)
اللہ تعالٰی نے میری امت سے ان خیالات کو معاف کر دیا ہے جو ان کے دلوں میں پیدا ہوں جب تک ان کے مطابق عمل نہ کریں یا زبان پر نہ لائیں۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر کسی نے اپنے دل میں طلاق دی، تو اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ (صحيح البخاري، كتاب الطلاق: 5269)
1. اسی طرح اگر انسان کو طلاق کے بارے میں شک ہو جائے کہ اس نے طلاق کے الفاظ اپنی زبان سے نکالے ہیں یا نہیں، تو طلاق واقع نہیں ہوتی كيونكہ فقہاء کے ہاں متفقہ قاعدہ ہے:
الیقین لا یزول بالشك (یقین شک کی بنیاد پر ختم نہیں ہوتا)
اس کی بیوی کا اس کے نکاح میں ہونا یقینی امر ہے، طلاق کے بارے میں شک واقع ہو ا ہے کہ اس نے طلاق کے الفاظ اپنی زبان سے نکالے ہیں یا نہیں، اس لیے طلاق نہیں ہوگی۔
والله أعلم بالصواب.