سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
عمربھر کے لیے گھر کرائے پر دینا
  • 5675
  • تاریخ اشاعت : 2025-01-21
  • مشاہدات : 200

سوال

زید نے اپنا گھر عمر کو اس شرط کے ساتھ کرائے پر دیا کہ جب تک وہ زندہ رہے گا اس گھر میں رہے گا۔ ہر مہینے کا کرایہ بھی متعین کیا ہے، کیا گھر اس شرط کے ساتھ کرائے پر دینا جائز ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کسی شخص  کو گھر یا کوئی اور چیز کرائے پر دینے کی شرط یہ ہے کہ مدت معلوم ہو۔ اگر گھر کرائے پر دیتے ہوئے یہ کہا جائے کہ جب تک میں زندہ ہوں  تب تک میں  اس گھر  كو كرائے پر لیتا ہوں تو یہ جائز نہیں ہو گا کیونکہ کسی کی زندگی کتنی ہے معلوم نہیں ہے یعنی کرائے کی  مدت مجہول ہے۔

1. يادرہے! کسی چیز کو کرائے پر لینے کی زیادہ سے زیادہ مدت کا تعین نہیں ہے، لہذا زیادہ مدت کے لیے بھی  كوئی چیز کرائے پر لی جا سکتی ہے، لیکن اس میں یہ شرط ہے کہ طے کی گئی  مدت تک کرائے پر لی گئی چیز كے باقی رہنے کے بارے میں ظن غالب ہو۔

ارشاد باری تعالی ہے:

قَالَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُنْكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَيَّ هَاتَيْنِ عَلَى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ (القصص:27)
اس نے کہا بے شک میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تجھ سے کردوں، اس (شرط) پر کہ تو آٹھ سال میری مزدوری کرے گا، پھر اگر تو دس پورے کردے تو وہ تیری طرف سے ہے اور میں نہیں چاہتا کہ تجھ پر مشقت ڈالوں، اگر اللہ نے چاہا تو یقینا تو مجھے نیک لوگوں سے پائے گا۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے