الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر میت اور اس کا سوتیلے بھائی ، بہنوں کا باپ ایک ہی ہے ، تو سوال میں مذکور صورت حال کے مطابق عبد الجلیل کی وفات کے بعد عبد الجلیل کی بیٹی، چار بھتیجے، ایک باپ شریک بھائی اور تین باپ شریک بہنیں زندہ تھیں۔ وراثت کی تقسیم درج ذیل طریقہ سے ہو گی:
نمبر شمار میت کا ورثاء جائیداد کی تقسیم سارے مال کے دس حصے کر لیے جائیں فیصد
1 بیٹی کل مال کا آدھا 5 حصے %50.0
2 باپ شریک بھائی (ریحان احمد)
باپ شریک بھائی اور باپ شریک بہنوں کو باقی مال
ملے گا 3 حصہ %20.0
3 مبینہ 1 حصہ %10.0
4 روبینہ 1حصہ %10.0
5 نسیمہ 1حصہ %10.0
6 چاربھتیجے انہیں کچھ نہیں ملے گا %0.0
بیٹی کو آدھا حصہ ملے گا، اس کی دلیل قرآن مجید کی آیت مبارکہ ہے:
وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ (النساء: 11)
اور اگر ایک عورت ہو تو اس کے لیے نصف ہے۔
باپ شریک بھائی اور باپ شریک بہنوں کو باقی مال ملے گا، اس کی دلیل قرآن مجید کی آیت مبارکہ ہے:
وَإِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ (النساء: 176)
اور اگر وہ کئی بہن بھائی مرد اورعورتیں ہوں تو مرد کے لیے دو عورتو ں کے حصے کے برابر ہو گا ۔
بھتیجوں کو باپ شریک بھائی اور باپ شریک بہنوں کی موجودگی میں کچھ نہیں ملے گا، اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَلْحِقُوا الفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَر (صحيح البخاري، الفرائض: 6732).
تم فرض حصے یعنی مقرر حصے ان کے حقداروں تک پہنچا دو اور جو باقی بچ جائے وہ میت کے قریب ترین مرد کے لیے ہے۔
باپ شریک بھائی اور باپ شریک بہنیں بھتیجوں کی بہ نسبت میت سے زیادہ قریب ہیں، اس لیے وہ وارث بنیں گے اور بھتیجے محروم ہو جائیں گے۔
والله أعلم بالصواب.
محدث فتوی کمیٹی
1- فضیلۃ الشیخ انس مدنی صاحب حفظہ اللہ