سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
شادی نہ ہونے پر مشت زنی کرنا
  • 5647
  • تاریخ اشاعت : 2025-09-26
  • مشاہدات : 225

سوال

اگر والدین نکاح نا کر وارہے ہوں، روزہ رکھنے سے بھی شہوت پر قابو نہ ہو، انسان کے سر پر جنسی خواہش سوار ہو، تو کیا زنا سے بچنے کے لیے مشت زنی کر سکتے ہیں؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مشت زنی کرنا قرآن وسنت کی نصوص کی رو سے حرام ہے ۔

ارشاد باری تعالی ہے:

وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ (5) إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ (6) فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ (المؤمنون:5-7) 

اور وہی جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ مگر اپنی بیویوں، یا ان (عورتوں) پر جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ بنے ہیں تو بلاشبہ وہ ملامت کیے ہوئے نہیں ہیں۔ پھر جو اس کے سوا تلاش کرے تو وہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔

 اللہ تعالی نے مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں جنسی خواہش کی تکمیل کے لیے بیوی اور لونڈی کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اس کے علاوہ کسی بھی طریقے سے شہوت پوری کرنے والے حد سے بڑھنے والے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشت زنی کرنا حدود الہی سے تجاوز ہے۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نوجوان رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ رہا کرتے تھے، ہمارے پاس کچھ نہیں ہوتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا: 

يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنْ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ (صحيح البخاري، النكاح: 5066)

نوجوانو! جو کوئی تم میں سے نکاح کی طاقت رکھتا ہے وہ شادی کرلے کیونکہ نکاح کا عمل آنکھ کوبہت زیادہ نیچے رکھنے والا اور شرمگاہ کی خوب حفاظت کرنے والا ہے۔ اور جو کوئی اس کی طاقت نہیں رکھتا، اسے روزے رکھنے چاہییں کیونکہ یہ اس کے لیے شہوت توڑنے والے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بالا حدیث مبارکہ میں شادی کی استطاعت نہ ہونے کی صورت میں روزے رکھنے کا حکم دیا ہے، اگر  مشت زنی جائز ہوتی تو آپ رہنمائی فرما دیتے۔

بیٹے کے بالغ ہونے کے بعد( اگر وہ معذور نہ ہو اور کمانے کے قابل ہو تو) اس کا کسی بھی قسم کا خرچہ شرعاً والدین کے ذمہ نہیں رہتا، چنانچہ بیٹے کے بالغ ہونے کے بعد اس کی مناسب جگہ پر شادی کی فکر وکوشش کرنا تو والدین کی ذمہ داری بنتی ہے، لیکن شادی کا خرچہ اور بیوی کا نفقہ والدین کے ذمہ نہیں ہے، اس کا انتظام لڑکے کو خود کرنا ہوگا، اور اگر شادی کی فضول و غیر ضروری رسموں اور فضول خرچی سے بچاجائے تو شادی کا خرچہ اتنا زیادہ اور مشکل نہیں ہے جتنا آج کل سمجھ لیا گیا ہے، اس لیے اگر والدین کی استطاعت ہو تو ان کو احسان کرتے ہوئے یہ خرچہ اٹھانا چاہیے، یہ ان کے لیے باعثِ اجر و ثواب ہوگا، لیکن اگر والدین کسی وجہ سے بیٹے کی شادی کا خرچہ نہ اٹھاسکیں تو بیٹے کے گناہ میں مبتلا ہونے کا وبال ان پر نہیں ہوگا، بیٹا خود کوشش کر کے حلال مال کمانے کی کوشش کرے؛ تاکہ شادی کا خرچہ اور بیوی کا نفقہ اٹھاسکے، اور جب تک اس کا انتظام نہ ہوسکے تو گناہ سے بچنے کے لیے کثرت سے روزے رکھے  ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کے بارے میں فرمایا ہے کہ اس سے شہوت قابو میں رہتی ہے تو یہ حتمی اور یقینی ہے، اس لیے جو شخص بھی روزوں کا اہتمام کرے گا اس کی شہوت قابو میں رہے گی۔ جب تک آپ کے پاس شادی کے اخراجات کا انتظام نہیں ہوتا روزے رکھیں، خود کو بری صحبت اور موبائل کے فتنوں سے بچائیں اور اللہ تعالی سے دعا کریں۔ آپ کی شہوت ان شاء اللہ قابو میں رہے گی۔

والله أعلم بالصواب.

تبصرے