الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
شریعت کا عام اصول یہی ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کے گناہوں کا ذمے دار نہیں ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
وَلا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلا عَلَيْهَا وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى (الأنعام: 164)
اور کوئی جان کمائی نہیں کرتی مگر اپنے آپ پر اور نہ کوئی بوجھ اٹھانے والی کسی دوسری کا بوجھ اٹھائے گی۔
سیدنا عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حجة الوداع میں رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
أَلَا لَا يَجْنِي جَانٍ إِلَّا عَلَى نَفْسِهِ، لَا يَجْنِي وَالِدٌ عَلَى وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ عَلَى وَالِدِهِ (سنن ابن ماجه، الديات: 2669) (صحیح)
سنو! کوئی جرم کرنے والا اپنے سوا کسی پر جرم نہیں کرتا۔ نہ باپ کے جرم کی ذمے داری اس کے بیٹے پر ہے، نہ بیٹے کے جرم کی ذمے داری اس کے باپ پر ہے۔
اسلام میں والدین پر یہ ذمے داری عائد کی گئی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی اچھی تربیت کریں۔
ارشاد باری تعالی ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلائِكَةٌ غِلاظٌ شِدَادٌ لا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُون(التحریم: 6)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں، اس پر سخت دل بہت مضبوط فرشتے مقرر ہیں، جو اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جو وہ انہیں حکم دے اور وہ کرتے ہیں جو حکم دیے جاتے ہیں۔
اگر والدین نے اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرنے میں کوتاہی کی ہے تو وہ ذمے دار ہیں۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ الْإِمَامُ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَمَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا وَالْخَادِمُ رَاعٍ فِي مَالِ سَيِّدِهِ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ قَالَ وَحَسِبْتُ أَنْ قَدْ قَالَ وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي مَالِ أَبِيهِ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ (صحیح البخاری، الجمعة: 893)
تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور اس سے اپنی رعیت کے متعلق باز پرس ہو گی۔ مرد اپنے گھر کا نگران ہے اور اس سے اپنے اہل خانہ کے متعلق سوال ہو گا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا۔ خادم اپنے آقا کے مال کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا۔
راوی کہتا ہے کہ میرے گمان کے مطابق آپ نے یہ بھی کہا: ’’انسان اپنے باپ کے مال کا نگران ہے اور اس سے اس کے متعلق باز پرس ہو گی، تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے متعلق سوال ہو گا۔
ایسے ہی اگر والدین اللہ تعالی کی نافرمانی کے کام میں کسی بھی طرح سے اولاد کی معاونت کرتے ہیں، یا ان کے غلط کام پر رضا مندی کا اظہار کرتے ہیں، یا معصیت کے اسباب مہیا کرتے ہیں تو وہ گناہگار ہوں گے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ﱠ (المائدة: 2).
اور نیکی اور تقوی پر ایک دوسرے کی مدد کرواور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔
والله أعلم بالصواب.