الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
غیر محرم آدمی کا عورت کی میت کو اٹھانا جائز ہے۔
سيدنا انس بن مالک رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی کے جنازے میں حاضر تھے، جبکہ رسول اللہ ﷺ قبر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ پھر آپ نے فرمایا:
هَلْ مِنْكُمْ رَجُلٌ لَمْ يُقَارِفْ اللَّيْلَةَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَنَا قَالَ فَانْزِلْ قَالَ فَنَزَلَ فِي قَبْرِهَا (صحيح البخاري، كتاب الجنائز: 1285)
کیا تم میں سے کوئی ایسا شخص ہے جس نے آج ہم بستری نہ کی ہو؟‘‘ حضرت ابو طلحہ ؓ نے عرض کیا: میں ہوں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم قبر میں اترو۔‘‘ چنانچہ وہ ان کی قبر میں اترے۔
مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر محرم شخص کا عورت کی میت کو کندھا دینا جائز ہے، کیونکہ جب وہ اسے دفنا سكتا ہے تو اٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے محرم نہیں تھے۔
والله أعلم بالصواب.