الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
بیوی كی شوہر سے بعوض علیحدگی خلع کہلاتی ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
وَلا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً إِلا أَنْ يَخَافَا أَلا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ (البقرة: 229(
اور تمھارے لیے حلال نہیں کہ اس میں سے جو تم نے انھیں دیا ہے کچھ بھی لو، مگر یہ کہ وہ دونوں ڈریں کہ وہ اللہ کی حدیں قائم نہیں رکھیں گے۔ پھر اگر تم ڈرو کہ وہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہیں رکھیں گے تو ان دونوں پر اس میں کوئی گناہ نہیں جو عورت اپنی جان چھڑانے کے بدلے میں دے دے۔
سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ سیدنا ثابت بن قیس ؓ کی بیوی، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی : اللہ کے رسول! مجھے ثابت بن قیس کے اخلاق و دین کی وجہ سے ان سے کوئی شکایت نہیں البتہ میں اسلام میں کفر کو ناپسند کرتی ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم ان کا دیا ہوا باغ واپس کر سکتی ہو؟“ اس نے کہا: ہاں۔ رسول اللہ ﷺ نے (حضرت ثابت سے) فرمایا:
اقْبَلِ الحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً (صحيح البخاري، كتاب الطلاق: 5273)
باغ قبول کر کے اس کو آزاد کردو۔
1. اگر خاوند بد صورت ہو اور عورت اسے ناپسند کرتی ہو، یا فاسق وفاجر ہو جو بار بار سمجھانے کے باوجود اپنے فسق وفجور سے باز نہ آئے، یا بیوی کے اخراجات نہ اداکرتا ہو، حالانکہ وہ اخراجات کی ادائیگی کرسکتا ہو، یا خاوند ازدواجی حقوق نہ ادا کرتا ہے، تو بیوی اپنے خاوند سے خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے۔
2. خاوند سے خلع كا مطالبہ کرنے کے لیے عمر کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ عورت عمر کے کسی بھی حصے میں خلع کا مطالبہ کر سکتی ہے، لیکن بغیر کسی وجہ کے خلع کا مطالبہ کرنا حرام ہے۔
سیدنا ثوبان بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا، فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ, فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ. (سنن أبي داود، كتاب الطلاق: 2226، سنن ترمذي، أبواب الطلاق واللعان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: 1187) (صحيح)
جو عورت بغیر کسی وجہ کے اپنے شوہر سے طلاق مانگتی ہے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔
والله أعلم بالصواب.