الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
آپ نے اپنی بیوی کو غصے میں کہا: ’’دل تو کر رہا ہے کہ تجھے تین الفاظ بول کر تیری امی کے گھر چھوڑ آوں‘‘، یہ جملہ بول کر آپ نے طلاق دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، طلاق نہیں دی، اس لیے طلاق واقع نہیں ہوئی۔ آپ دونوں خاوند بیوی اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ لیکن انسان کو چاہیے کہ اپنے معاملات کو سلجھانے کے لیے کوئی اور طریقہ استعمال کرے ، طلاق دینے کی دھمکیاں نہ دے۔
والله أعلم بالصواب.