سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
ایک شخص نے اپنی بیوی کو غصے میں کہا: ’’دل تو کر رہا ہے کہ تجھے تین الفاظ بول کر تیری امی کے گھر چھوڑ آوں‘‘، کیا طلاق واقع ہو گئی؟
  • 5552
  • تاریخ اشاعت : 2024-11-26
  • مشاہدات : 310

سوال

زید کی اپنی بیوی سے لڑائی چلتی رہتی تھی۔ دونوں میاں بیوی جوائنٹ فیملی میں رہتے تھے۔ ایک دن زید نے اپنے والد کو ایمرجنسی میں ڈاکٹر کو دکھانا تھا، تو زید اپنی بیوی کو آگاہ کرتا ہے، کہ وہ اپنے والد کو ڈاکٹر کو دکھانے لے کر جا رہا ہے۔ اس بات پر زید کی بیوی کوئی کڑوی بات سنا دیتی ہے۔ زید اپنی بیوی کو غصے میں کہتا ہے کہ " دل تو کر رہا ہے کہ تجھے تین الفاظ بول کر تیری امی کے گھر چھوڑ آوں"۔ پھر بیوی شاید آگے سے کہتی ہے کہ "بھلے چھوڑ آ" ۔ بیوی کے الفاظ سہی طریقے سے یاد نہیں۔ پھر زید اپنے والد کو دکھانے لے جاتا ہے۔ کیا زید کے ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع ہوئی؟ دل میں وسوسے آ رہے ہیں۔ لے کر جا رہا ہے۔ اس بات پر زید کی بیوی کوئی کڑوی بات سنا دیتی ہے۔ زید اپنی بیوی کو غصے میں کہتا ہے کہ " دل تو کر رہا ہے کہ تجھے تین الفاظ بول کر تیری امی کے گھر چھوڑ آوں"۔ پھر بیوی شاید آگے سے کہتی ہے کہ "بھلے چھوڑ آ" ۔ بیوی کے الفاظ سہی طریقے سے یاد نہیں۔ پھر زید اپنے والد کو دکھانے لے جاتا ہے۔ کیا زید کے ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع ہوئی؟ دل میں وسوسے آ رہے ہیں۔

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ نے اپنی بیوی کو غصے میں کہا: ’’دل تو کر رہا ہے کہ تجھے تین الفاظ بول کر تیری امی کے گھر چھوڑ آوں‘‘،  یہ جملہ بول کر آپ نے طلاق دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، طلاق نہیں دی، اس لیے طلاق واقع نہیں ہوئی۔ آپ دونوں خاوند بیوی اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ لیکن انسان کو چاہیے کہ اپنے معاملات کو سلجھانے کے لیے کوئی اور طریقہ استعمال کرے ، طلاق دینے کی دھمکیاں نہ دے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے