سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
کیا ان شاء اللّہ طلاق طلاق طلاق کہنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟
  • 5549
  • تاریخ اشاعت : 2025-03-04
  • مشاہدات : 148

سوال

کچھ عرصہ پہلے میری اور میری بیوی کی کسی بات پر تلخ کلامی ہوئی جس پر میں شدید غصے میں آ گیا اور کہا کہ اگر دوبارہ ایسی غلطی کی تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔ چند منٹ بعد (2 یا 3)منٹ بعد والدہ محترمہ کے ساتھ جھگڑے میں میرے منہ سے ان شاء اللّہ طلاق طلاق طلاق کے الفاظ نکل گئے۔ میں نے اپنی بیوی کو مخاطب نہیں کیا اور یہ الفاظ اپنی بیوی کی نسبت سے نہیں کہے۔ میں یہ حلف اٹھاتا ہوں کہ میری نیت یا ارادہ ہر گز اپنی بیوی کو خود سے جدا کرنے کا نہیں تھا۔ مفتی صاحب والدہ محترمہ نے کمرے میں آتے ہی اتنی زیادہ بددوعائیں دینا شروع کر دیں تھیں کہ مجھے ان کی باتوں پر اتنا شدید غصہ آیا کہ میرا دل اور میری زبان میرےکنٹرول میں نہیں رہے۔ اس وقت میرے منہ سےیہ الفاظ نکلے۔ اکثر میرےساتھ ایسا ہو جاتا ہے کہ جب مجھے شدید غصہ آتا ہے تو اس وقت میں اپنے آپ پر کنٹرول نہیں رکھ سکتا۔ ایسے عالم میں، میں نے کئی دفعہ خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کی، مگر میرے بھائیوں نے مجھے پکڑ لیا۔ مفتی صاحب میری بیوی اس وقت کمرے میں موجود تھی لیکن میری والدہ کے پیچھے کھڑی تھی۔ مفتی صاحب میری اس ذہنی کیفیت کو مد نظر رکھتے ہوۓ قرآن و سنت کی روشنی میں میرا یہ مسئلہ حل فرمائیں۔

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ نے  جھگڑے  میں اپنے منہ سے ان شاءاللّہ طلاق طلاق طلاق کے الفاظ ادا کیے ہیں، یعنی اگر اللہ نے چاہا تو طلاق طلاق طلاق، اور آپ کے بقول آپ کا اپنی بیوی کو طلاق دینے کا ارادہ نہیں تھا ، اس لیے  اس صورت میں آپ کی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے