سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ صرف نماز شروع کرتے وقت رفع الیدین کرتے تھے؟
  • 5538
  • تاریخ اشاعت : 2025-04-14
  • مشاہدات : 820

سوال

مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ذکر ہے کہ وہ صرف نماز شروع کرتے وقت رفع اليدين كيا کرتے تھے، پھر اس کے بعدنہیں کرتے تھے۔ اس حدیث کی وضاحت مطلوب ہے، نیز كيا یہ حدیث صحیح ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد رفع الیدین كرنا بہت سی احادیث سے ثابت ہے، بلکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس مسئلے پر"جزء رفع الیدین" کے نام سے مستقل کتاب لکھی ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب میں ان دونوں جگہوں پر رفع الیدین کرنے کو ثابت کیا ہے، اور اس موقف کی مخالفت کرنے والوں کی سختی سے تردید کی ہے۔

انہوں نے اپنی اسی کتاب میں رفع الیدین کے بارے میں  حسن بصری رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام  (نماز میں رکوع جاتے  ہوئے اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد)  رفع الیدین کیا کرتے تھے۔

امام بخاری رحمہ اللہ امام حسن بصری رحمہ اللہ کے اس قول پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: 

فَلَمْ يَسْتَثْنِ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَ أَحَدٍ، وَلَمْ يَثْبُتْ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يَرْفَعْ يَدَيْه

حسن بصری نے کسی بھی صحابی کو مستثنی نہیں کیا، اور نہ ہی کسی صحابی سے یہ ثابت ہے کہ انہوں نے رفع الیدین نہ کیا ہو۔

   (دیکھیں: جزء رفع اليدين از امام بخاری، صفحہ نمبر 7)

اس موضوع پر تفصیل سے جاننے کے لیے درج ذیل کتب کا مطالعہ مفید رہے گا۔

نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین عند الرکو ع و بعدہ فی الصلوة

از زبیر علی زئی رحمہ اللہ

کیا رفع الیدین منسوخ ہے؟

از حافظ محمد ادریس کیلانی

مسئلہ رفع الیدین پر ایک نئی کاوش کا تحقیقی جائزہ  

از ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ

میں رفع الیدین کیوں کروں؟

از ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی

مصنف ابن ابی شیبہ میں  سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے جس اثر کے بارے میں سوال کیا گیا ہے اس کی سند اور الفاظ درج ذیل ہیں:

حدثنا وكيع، عن أبي بكر بن عبد الله بن قطاف النهشلي، عن عاصم بن كليب، عن أبيه، «أن عليا، كان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة، ثم لا يعود» (مصنف ابن أبي شيبة:  2442)

عاصم بن کلیب اپنے باپ کلیب سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی الله عنہ جب نماز شروع کرتے تو رفع الیدین کرتے تھے، پھر دوبارہ نہیں کرتے تھے۔

پہلی بات تو یہ ہے امام بخاری رحمہ اللہ اور عبد الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ اور دیگر  نے اس اثر کو ضعیف قرار دیا ہے۔  (دیکھیں: تحفة الأحوذي، 2/95-96)

اگر اس کو صحیح بھی تصور کر لیا جائے، تواس كا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ركوع  سے پہلے اور رکوع سے اٹھنے کے بعد رفع الیدین اس وجہ سے چھوڑا ہو کہ وہ اس کو سنت مؤکدہ نہیں سمجھتے تھے۔

جب رفع اليدين كرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سی احادیث سے ثابت ہے، تو محض ایک صحابی کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہوئے اسے منسوخ قرار دینا درست نہیں ہے۔  جبکہ صحابی کے فعل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کے درمیان جمع کرنا بھی ممکن ہے۔ (ديكھیں: تحفة الأحوذي، 2/95-96)

والله أعلم بالصواب.

تبصرے