سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
کھانے کی ڈش کا نام حلیم رکھنا
  • 5530
  • تاریخ اشاعت : 2024-11-26
  • مشاہدات : 171

سوال

ہمارے ہاں ایک ڈش ہے، جسے حلیم کہا جاتا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کھانوں کے اس طرح کے نام رکھنا جائز نہیں کیونکہ اللہ تعالی کے پاک ناموں میں سے ایک "الحلیم" بھی ہے۔ کیا یہ بات درست ہے؟ جبکہ حلیم (کھانے کا نام) کہنے والے کے ذہن میں کہیں بھی استہزا‌ کا خیال نہیں ہوتا اور وہ عربی میں بھی بات نہیں کر رہا ہوتا۔

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عربی زبان میں لفظ "الحلیم"  اللہ تعالی کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ البتہ لفظ "حلیم" اردو زبان میں گندم سے بنی ایک مخصوص کھانے کی ڈش کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں۔ 

  اللہ تعالی کے کچھ نام ایسے ہیں جو صرف اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہیں، کسی انسان کا وہ نام رکھنا جائز نہیں ہے۔ جیسے "الرحمٰن"،’’الخالق‘‘وغیرہ ۔ جب کہ اللہ تعالی کے کچھ نام ایسے ہیں جو انسان بھی رکھ سکتا ہے۔ جیسے رحیم، رؤوف وکیل، حلیم وغیرہ۔

چونکہ "حلیم" اللہ تعالی کے ساتھ خاص نہیں ہے، اس لیے کھانے کی ڈش کو  "حلیم" کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

ويسے بھی کھانے کی ڈش کا نام ’’حلیم‘‘ رکھنے سے  اللہ تعالی کے نام کی توہین لازم نہیں آتی؛ كيونكہ جب کوئی کہتا ہے کہ میں "حلیم"  کھا رہا ہوں یا "حلیم" بنائی ہے، تو سننے والوں کا ذہن کھانے کی مخصوص ڈش کی طرف ہی جاتا ہے، نہ کہ باری تعالی کی صفت  "الحلیم" کی طرف۔ 

والله أعلم بالصواب

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے