الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
شرعی حکم کے مطابق نکاح میں ولی کا ہونا شرط ہے۔
سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا نِكَاحَ إلا بِوَليٍّ. (سنن أبي داود، النكاح:2085، سنن ترمذي، النكاح: 1101، سنن ابن ماجه، النكاح: 1881) (صحیح).
ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔
دوسری حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أيُّما امرأةٍ نكَحَتْ بغيرِ إذن مَوَاليها فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ. (سنن أبي داود، النكاح: 2083، سنن ترمذي، النكاح: 1102) (صحيح).
جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے گی اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے۔
1. عورت کا ولی قریبی ترین مرد بنتا ہے۔ ولی بننے کی یہ شرط نہیں ہے کہ وہ عورت سے عمر میں بڑا ہو۔
اگر اس عورت کی اولاد بالغ ہے، تواس کا بیٹا جو بالغ ہوچکا ہے، وہ اپنی والدہ کا ولی بنے گا۔ اگر اولاد ابھی چھوٹی ہے، تو اس کا سگا بھائی جس کی عمر 23 سال ہو چکی ہے ولی بنے گا۔
والله أعلم بالصواب.