الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
سوال میں مذکور صورت حال کے مطابق میت کے ورثاء میں چار بیٹیاں، ایک پوتا اور ایک بھائی زندہ ہیں۔ میت کی کل جائیداد کی تقسیم شرعی اصولوں کے مطابق درج ذیل طریقہ سے کی جائے گی:
|
نمبر شمار |
میت کا ورثاء |
جائیداد کی تقسیم |
سارے مال کے 6حصے کر لیے جائیں |
|
1 |
چار بیٹیاں |
دو تہائی |
4 حصے (ہر بیٹی کا ایک حصہ) |
|
2 |
پوتا |
باقی مال (ایک تہائی) |
2حصے |
|
3 |
بھائی |
کچھ نہیں ملے گا |
- |
بیٹیوں کے چوتھا حصہ لینے کی دلیل، ارشاد باری تعالی ہے:
ﱡ
فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ﱠ (النساء: 11).
پھر اگر وہ دو سے زیادہ عورتیں (ہی) ہوں،تو ان کے اس کا دو تہائی ہے جو اس نے چھوڑا۔
پوتا بقیہ مال لے گا، اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
أَلْحِقُوا الفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَر (صحيح البخاري، الفرائض: 6732).
تم فرض حصے یعنی مقرر حصے ان کے حقداروں تک پہنچا دو اور جو باقی بچ جائے وہ میت کے قریب ترین مرد کے لیے ہے۔
1. پوتا بھائی کی بہ نسبت میت سے زیادہ قریب ہے، اس لیے پوتا وارث ہو گا، بھائی وارث نہیں ہو گا۔
والله أعلم بالصواب.