سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
لے پالک بیٹا یا بیٹی کس کی وارث بنے گی؟
  • 5487
  • تاریخ اشاعت : 2025-02-21
  • مشاہدات : 395

سوال

ایک شخص کی اپنی کوئی اولاد نہیں ہے۔ اس نے اپنے بھائی کی بیٹی کی پرورش کی ہے۔ کیا وہ اپنے سگے باپ کی وارث بنے گی یا اپنے تایا جان کی جس نے اسے پالا ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

منہ بولی اولاد کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے:

ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ  (الأحزاب:  5)

انہیں ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے ہاں زیادہ انصاف کی بات ہے۔

لہذا پرورش کرنے کی وجہ سے اس لڑکی کا تایا جس نے اس کی پرورش کی ہے اس کا باپ نہیں بن جائے گا۔ لڑکی کی نسبت اس کے سگے باپ کی طرف ہی کی جائے گی اور وہ اپنے سگے باپ کی ہی وارث بنے گی۔ تایا جب فوت ہو گا اس کی وراثت اس کے وارثوں میں تقسیم ہو گی۔ تایا کے فوت ہونے کے بعد اس کا سارا مال لے پالک بیٹی کو دے دینا شرعی لحاظ سے جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر تایا  جس نے لڑکی کو پالا ہے، صاحب ثروت ہے، تو وہ اس کے حق میں اپنے  مال سے ایک تہائی یا اس سے کم  کی وصیت کر سکتا ہے۔

سیدنا خالد بن عبید السلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَعْطَاكُمْ ثُلُثَ أَمْوَالِكُمْ عِنْدَ وَفَاتِكُمْ زِيَادَةً فِي أَعْمَالِكُمْ. (صحيح الجامع: 1721).

بلاشبہ اللہ تعالی نے تمہیں موت کے وقت ایک تہائی مال تک اختیار دیا ہے تاکہ تمہارے اعمال میں اضافہ ہو سکے۔

1. یاد رہے!  تایا کا اپنی  زندگی میں دیگر وارثوں کو محروم کرنے کے لیے اپنی ساری جائیداد  لے پالک بیٹی کو ہبہ کر دینا بھی جائز نہیں ہے۔

والله أعلم باالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے