الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اللہ تعالی کے ہاں ہر نیک عمل کے قبول ہونے کی دو بنیادی شرطیں ہیں:
1. اخلاص (یعنی انسان اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی کے لیے عمل کرے، ریاکاری اور دکھلاوا مقصود نہ ہو)
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ (البينة:5)
اور انھیں اس کے سوا حکم نہیں دیا گیا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اس حال میں کہ اس کے لیے دین کو خالص کرنے والے ہوں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی (یعنی عمل ویسے ہی سرانجام دیا جائے جیسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دکھایا ہے)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ (صحيح مسلم، الأقضية:1718).
جس شخص نے ایسا عمل کیا جس کے بارے میں ہمارا حکم نہیں ہے وہ مردود اور باطل ہے (اللہ تعالی کے ہاں قبول نہیں ہے)۔
اس لیے قربانی کرتے ہوئے مسنون دعا بسم اللہ واللہ اکبر پڑھنا واجب ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور ذکر یا قرآن کی آیات پڑھنا درست نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر مذکورہ دعا نہیں پڑھتا، تو اس کا ذبیحہ شرعاً حلال نہیں ہو گا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ (الأنعام: 121)
اوراس میں سے مت کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا اور بلاشبہ یہ یقینا سراسر نافرمانی ہے۔
البتہ اگر انسان دعا پڑھنا بھول جائے تو پھر اس قربانی کو کھانا جائز ہے۔
والله أعلم بالصواب.