الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اسلام میں دو سگی بہنوں سے بیک وقت نکاح کرنا حرام ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ (النساء: )
اور یہ کہ تم دو بہنوں کو جمع کرو۔ (یعنی دو بہنوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنا حرا م ہے)
سیدنا فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اسلام قبول کیا ہے اور میری زوجیت میں دو بہنیں ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
طَلِّقْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ (سنن أبي داؤد: كِتَابُ الطَّلَاقِ: 2243، جامع الترمذي: أَبْوَابُ النِّكَاحِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: 1129) (صحيح)
ان میں سے کسی ایک کو طلاق دے دو۔
دو بہنوں سے ایک ہی وقت میں نکاح کرنے سے منع کرنے میں حکمت کیا ہے ؟
امام ابن عاشور رحمہ اللہ اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وقوله: وأن تجمعوا بين الأختين. هذا تحريم للجمع بين الأختين، فحكمته دفع الغيرة عمن يريد الشرع بقاء تمام المودة بينهما، وقد علم أن المراد الجمع بينهما فيما فيه غيرة، وهو النكاح أصالة. (ديكھیں: ا لتحریر وا لتنویر از ابن عاشور ، جلد نمبر 4، صفحہ نمبر 300)
’’وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ (اور یہ کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ جمع کرو)، یہ دو بہنوں کو ایک ساتھ جمع کرنے کی حرمت ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ دو بہنوں کے درمیان غیرت (حسد) کو دور رکھا جائے، کیونکہ شریعت ان میں مکمل محبت و مودت کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ اور یہ بات واضح ہے کہ یہاں جمع کرنے سے مراد وہ تعلق ہے جس میں حسد پیدا ہو، یعنی نکاح۔
والله أعلم بالصواب.