سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
کیا قرآن مجید میں قرآن کو زبانی یاد کرنے کی فضیلت بيان كی گئی ہے؟
  • 5482
  • تاریخ اشاعت : 2024-12-17
  • مشاہدات : 211

سوال

قرآن میں حافِظ قرآن یا قرآن حفظ کرنے کے بارے میں کونسی آیت آئی ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہمارے علم میں ایسی کوئی قرآن كريم کی آیت نہیں ہے، جس میں قرآن کو زبانی یاد کرنے کی ترغیب دی گئی ہو۔ البتہ بہت سی احادیث میں قرآن مجيد حفظ کرنے کی ترغیب اور اس کے اجر وثواب کا  ذکر موجود ہے۔

چند ایک احادیث ذیل میں ذکر کی جاتی ہیں:

 سيدنا عبداللہ بن عمرو   رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ اقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا فَإِنَّ مَنْزِلَتَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَأُ بِهَا (سنن ترمذي، أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: 2914) (صحيح)

(قیامت کے دن) صاحب قرآن سے کہا جائے گا: (قرآن) پڑھتا جا اور (بلندی کی طرف) چڑھتا جا۔ اور ویسے ہی ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جس طرح تو دنیا میں ٹھہر ٹھہرکر ترتیل کے ساتھ پڑھتا تھا۔ پس تیری منزل وہ ہو گی جہاں تیری آخری آیت کی تلاوت ختم ہوگی۔

 

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ سے نے فرمایا:

مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ حَافِظٌ لَهُ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَمَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ وَهُوَ يَتَعَاهَدُهُ وَهُوَ عَلَيْهِ شَدِيدٌ فَلَهُ أَجْرَانِ (‌صحيح البخاريكِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ: 4937)

اس شخص کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس کا حافظ بھی ہے، مکرم اور نیک لکھنے والے (فرشتوں) جیسی ہے اور جو شخص قرآن مجید بار بار پڑھتا ہے اور وہ اس کے لیے دشوار ہے تو اسے دو گنا ثواب ملے گا۔

 

سيدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

يَجِيءُ الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ حَلِّهِ فَيُلْبَسُ تَاجَ الْكَرَامَةِ ثُمَّ يَقُولُ يَا رَبِّ زِدْهُ فَيُلْبَسُ حُلَّةَ الْكَرَامَةِ ثُمَّ يَقُولُ يَا رَبِّ ارْضَ عَنْهُ فَيَرْضَى عَنْهُ فَيُقَالُ لَهُ اقْرَأْ وَارْقَ وَتُزَادُ بِكُلِّ آيَةٍ حَسَنَةً (سنن ترمذي، أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: 2915) (صحيح)

قرآن قیامت کے دن پیش ہو گا پس کہے گا: اے میرے رب! اسے (یعنی صاحب قرآن کو) جوڑا پہنا، تو اسے کرامت (عزت وشرافت) کا تاج پہنایا جائے گا۔ پھر وہ کہے گا: اے میرے رب! اسے اور دے، تو اسے کرامت کا جوڑا پہنایا جائے گا۔ وہ پھرکہے گا: اے میرے رب اس سے راضی وخوش ہو جا، تو وہ اس سے راضی وخوش ہو جائے گا۔ اس سے کہا جائے گا پڑھتا جا اورچڑھتا جا، تیرے لیے ہر آیت کے ساتھ ایک نیکی کا اضافہ کیا جاتا رہے گا۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتوی کمیٹی

تبصرے