الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
آپ کے سوال سے سمجھ آ رہا ہے کہ آپ کا بھائی فقیر یا مسکین نہیں ہے ، اس لیے اسے زکاۃ کی رقم دینا جائز نہیں ہے، کیونکہ زکاۃ کا مستحق مسکین یا فقیر ہیں، جن کی تفصیل ا للہ تعالی نے سورہ توبہ میں ذکر کی ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (التوبة: 60)
صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور ان پر مقررعاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر میں (خرچ کرنے کے لیے ہیں)۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
مذکورہ آیت میں فقیر سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو اور مسکین وہ ہے جس کی آمدنی اس کی ضروریات سے کم ہے۔
نفلی صدقہ اگرچہ غنی آدمی کو دیا جا سکتا ہے، لیکن بہتر یہی ہے کہ کسی محتاج اور ضرورت مند شخص کو دیا جائے۔
اگر آپ بھائی کا کاروبار بڑھانے کے لیے اس کے ساتھ تعاون کرتے ہیں تو یہ آپ کا احسان ہے آپ کو اس کا اجر ملے گا۔
والله أعلم بالصواب.